تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 745
خلاصہ خطاب فرمودہ 10 نومبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک حضور نے فرمایا:۔”سنگا پور میں مجھے یہ دیکھ کر دکھ اور تعجب ہوا کہ نہ وہاں کے احمدیوں نے اور نہ غیر احمدی مسلمانوں نے وہاں کی چینی آبادی کی طرف کوئی توجہ دی۔حالانکہ عیسائیوں نے ان کو اپنے مذہب میں داخل کرنے کے لیے بڑی کوششیں کی ہیں۔جماعت احمدیہ کو غیر احمدی مسلمانوں میں کام کرنے کے لئے اگر چہ مشکلات ہیں اور اب تو عالمی سطح پر جماعت کی مخالفت بڑے منظم رنگ میں شروع ہوگئی ہے لیکن وہاں کے احمدیوں نے یہ نہ دیکھا کہ چینی قوم کا میدان خالی پڑا ہے۔یہ قوم سکون حاصل کرنے کے لیے مارشل آرٹس اور کلچر کے نام پر بے معنی باتوں میں الجھی ہوئی ہے۔بے قراری ان کی زندگی میں نمایاں ہے۔اس کا علاج اسلام کی روحانیت ہے۔اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ، اللہ کا پیار قائم کرنے کی ضرورت ہے۔دنیا میں یہی طمانیت کا ذریعہ ہے کہ دنیا کو اپنے خالق کی طرف لایا جائے اور غیر قوموں سے روحانیت کے ذریعے تعلق قائم کیا جائے“۔فرمایا:۔میں نے محسوس کیا ہے کہ دنیا کو یہی چیز اسلام کی طرف مائل کرے گی۔اپنے عملی نمونہ سے یہ بتانا پڑے گا کہ فلاں شخص با خدا ہے اور دنیا کے عام لوگوں اور اس میں یہ فرق ہے“۔حضور نے فرمایا:۔”میرے سارے سفر کا ماحصل یہ ہے کہ چونکہ دنیا مادیت کی طرف تیزی سے جھکتی چلی جارہی ہے، اسی لیے ہمارے ساتھ مقابلے کی فیلڈ سکڑتی جارہی ہے۔اب دنیا سے ہمارا مقابلہ کسی دلیل پر نہیں ہو گا بلکہ اس بات پر ہوگا کہ خدا ہے یا نہیں؟ ایک باخدا شخص میں اور بے خدا شخص میں کیا فرق ہے؟ یہ وہ محاذ ہے، جہاں پر آکر ہر بات کی تان ٹوٹے گی۔فرمایا کہ حالیہ دورے میں، میں نے محسوس کیا کہ ان علاقوں کے احمدیوں میں روحانیت موجود ہے۔پس اس کو ذرا حرکت میں لانے کی ضرورت ہے۔پھر امید ہے کہ اس طرف غیر معمولی توجہ پیدا ہوگی“۔حضور نے فرمایا:۔صرف چینی قوم ہی نہیں بلکہ اس علاقے میں موجود بدھ مذہب کے پیروکاروں کو بھی روحانیت کے ذریعہ اسلام کی طرف لایا جا سکتا ہے۔اور مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ یہ بدھسٹ ولی طور پر اسلام کے زیادہ قریب ہیں۔لیکن ان کو کمیونزم سے بچانے کی سیاسی چال کے طور پر عیسائیت کی طرف لایا گیا ہے ور نہ یہ اسلام قبول کرنے کی طرف جلد مائل ہو سکتے ہیں۔۔745