تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 738
اقتباس از خطاب فرمودہ 30اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ہوں کہ خدا کی نظر میں ہم مسلمان ہیں اور جس پر خدا کی محبت کی نظر پڑتی ہے، وہ دنیا میں لازما کامیاب ہوا کرتا ہے۔اس لئے تمہیں اب صاحب عزم لوگوں سے واسطہ پڑے گا۔جس طرح تم نے اس ملک کو کسی زمانہ میں فتح کیا تھا، اب ہم فتح کریں گے لیکن محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر فتح کریں گے۔اور نہیں چھوڑیں گے، جب تک تمہارے دل جیت نہ لیں۔پس میں احباب جماعت سے یہ کہتا ہوں کہ آپ سب دعائیں کریں اور اپنی قربانیوں کے معیار کو بلند کریں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دن رات دعائیں کریں کہ ہمیں اسلام کو چار دانگ عالم میں غالب کرنے کی توفیق عطا ہو۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، اس کثرت کے ساتھ سعید روحیں وہاں پڑی ہوئی ہیں اور ایسی زمینیں ہیں، جن پر ہل نہیں چلایا گیا۔وہ کنواریوں کی طرح ہیں اور انتظار کر رہی ہیں، مسیح محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کہ کب اس کا پیغام پہنچے اور ہمارا دولہا ہمیں نصیب ہو۔سو اس پیغام کا آغاز وہاں ہو چکا ہے۔اس ضمن میں ایک کنواری قوم، جو حقیقت میں کلیۂ اسلام سے بالکل نابلد اور کنواری رہ گئی ہے۔اس کا ذکر بھی میں کر دیتا ہوں۔وہ قوم ہے، آسٹریلیا کی اصل قوم۔یہ ایک ایسی قوم ہے، جو دنیا کی معلوم قوموں میں سب سے زیادہ پرانی تاریخ رکھتی ہے۔محققین کا پہلے یہ اندازہ تھا کہ یہ چالیس ہزار سال پرانی قوم ہے۔اب نئی تحقیق ہوئی تو ان کے بعض آثار اس سے بھی پرانے نظر آئے۔اور یہ کہا گیا کہ یہ پچاس ہزار سال پرانی قوم ہے۔ہم اپنے لحاظ سے مدتوں کے ناپنے کے جو پیمانے رکھتے ہیں، ان کے مطابق ہم کہتے ہیں کہ احرام مصر کو بنے ہوئے ساڑھے بارہ ہزار سال ہو گئے ہیں اور یہ گویا ہمارے نقطہ نگاہ سے ایک قدیم قوم ہے۔لیکن آسٹریلیا کے اصل باشندوں کے سامنے تو یہ ایک چھوٹا سا بچہ ہے۔غرض آسٹریلیا کی اصل قوم قدیم زمانے سے وہاں آباد ہے اور اب محققین یہ کہتے ہیں کہ تعجب نہیں ہو گا اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ لوگ ایک لاکھ سال پہلے سے یہاں آباد ہیں۔پس آسٹریلیا کی یہ وہ اصل قوم ہے، جو اسلام سے کلیہ نا آشنا تھی۔میں نے وہاں جماعت سے کہا کہ مجھے تو بڑی سخت بے چینی ہے۔جب تک ان کے لیڈروں سے ملاقات نہ ہو اور ان کو اسلام کا پیغام پہنچانے کی راہیں نہ کھلیں، میرا یہ سفر مکمل نہیں ہو سکتا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ پیشگوئی ہے کہ کنواریاں اس کا انتظار کریں گی اور آسٹریلین میں تو پھر بھی اسلام کسی نہ کسی رنگ میں داخل ہو چکا ہے۔لیکن یہ ایک کنواری قوم ہے اس لحاظ سے کہ اس میں اس وقت ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ان میں اسلام کو لازما داخل ہونا ہے۔اس لئے ان سے ملاقات کا انتظام کرو۔چنانچہ ان کی ایک لیڈر سے بات ہوئی لیکن وہ کچھ گھبراگئیں۔معلوم ہوتا ہے، ان پر بھی کچھ دباؤ پڑا 738