تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 737 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 737

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطاب فرموده 30 اکتوبر 1983ء ذبح کر دیئے جاتے ہیں۔میں نے کہا: یہ ہے، مسیحیت۔کہتا ہے یہ مسیحیت ہے تو میری توبہ میں مسیح نہیں بننا چاہتا، میں نہیں مسیح بنتا۔میں نے کہا: بس ٹھیک ہے، اب آپ خوب سمجھ گئے ہیں۔پھر وہ کہنے لگا کہ اب مجھے آپ یہ بتائیں کہ بچے کا کس طرح پتہ کریں؟ مجھے پریشانی ہے، بہت سے لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صداقت ہماری طرف ہے۔ہمیں کس طرح پتہ لگے گا کہ وہ بچے ہیں؟ میں نے کہا: اس کا بڑا آسان علاج ہے۔آپ اللہ سے پوچھیں، دعا کریں، وہ تمہیں صحیح راستہ بتائے گا۔جس سے ملنے جانا ہو، اس سے راستہ پوچھا جاتا ہے۔غیر اللہ کے پاس جاؤ گے تو وہ تمہیں غلط رستہ بتائے گا۔اس نے کہا: ہاں ، یہ ٹھیک ہے۔اب میں مطمئن ہو گیا ہوں۔میں یہ وعدہ کرتا ہوں، میں دعا کروں گا۔یہاں میرے احمدی واقف دوست ہیں، انہوں نے مجھے بلایا تھا، جب مجھے تسلی ہوگئی تو پھر میں ان کی معرفت احمدی ہو جاؤں گا۔پس آسٹریلین دل کی جو اس وقت کیفیت تھی ، اس کے اظہار کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کو ہمارے پاس بھجوادیا۔یہی نہیں ہم نے ہر جگہ خدا کے فضلوں کی بارش ہوتے دیکھی اور دلوں کو تبدیل ہوتے دیکھا۔آخری بات یہ ہے کہ آسٹریلیا کی سرزمین پر بکثرت ایسے دل پیدا کئے ہوئے ہیں، جو تھوڑی سی کوشش کا انتظار کر رہے ہیں۔اور بڑی جلدی جلدی وہ انشاء اللہ اسلام میں داخل ہوں گے۔میں نے ان کو مسجد کی سنگ بنیاد کی تقریب پر جو پیغام دیا تھا، معلوم ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے خاص تصرف کے تابع تھا۔اس پیغام کی صداقت کے اظہار کا آغاز ہو چکا ہے۔میں نے اہل آسٹریلیا سے کہا تھا کہ تم آئے تھے ، اس ملک میں اس زمانے میں جب کہ یہ ملک نیا یا دریافت ہوا تھا۔یعنی انگریز قوم جو بعد میں یہاں آباد ہوئی، اس نے بزور شمشیر اس کو فتح کیا اور ایک نو آبادی بنائی۔اور اسے نو آبادی بنانے کے دوران تم نے اصل باشندوں پر بڑے مظالم بھی کئے ہیں۔ویسے بھی نو آبادیات کے ساتھ مظالم کا ایسا جوڑ ہے، جو الگ ہو ہی ہوہی نہیں سکتا۔آج ہم تمہیں اسلام کی نو آبادی بنانے کے لئے آئے ہیں۔اس کے ساتھ بھی ظلم وابستہ ہیں لیکن تم کرو گے اور ہم کہیں گے۔یہ مضمون الٹ جایا کرتا ہے۔روحانی نو آبادیوں میں پرانے باشندے نئے داخل ہونے والوں پر مظالم کیا کرتے ہیں۔جبکہ دنیاوی نوآبادیوں میں نئے باشندے پرانوں پر ظلم کیا کرتے ہیں۔یہ ایک تقدیر ہے، جو نہیں بدلا کرتی۔پس ہم یہ سب کچھ دیکھ کر آئے ہیں اور تیار ہو کر آئے ہیں اور ہم یہ عزم لے کر آئے ہیں کہ ہم نے تمہیں مسلمان بنا کے چھوڑنا ہے۔تم آج ہماری کم مائیگی پر نگاہ نہ کرو، آج یہ خیال نہ کرو کہ ہم اپنے ملک میں بھی مسلمان کہلاتے ہیں کہ نہیں کہلاتے۔میں تمہیں بتا دیتا 737