تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 736 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 736

اقتباس از خطاب فرمودہ 30 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک منٹ تک چپ کر کے بیٹھے رہے اور مجھے نہیں بتایا۔ان صاحب سے جو سوال کر رہے تھے اور ملیشیا کے رہنے والے تھے، ان سے میں نے کہا کہ میں باہر آپ کا انتظار کرتا ہوں، اگر آپ کو سوال کرنے کی حسرت رہ گئی ہے تو باہر تشریف لے آئیں، وہاں چائے پیئیں گے، مجلس لگے گی۔آپ کے ساتھ بات ہو جائے گی۔وہ بے چارے سوالوں سے اتنے پشیمان ہو چکے تھے کہ ان کی طرف سے پیغام آگیا کہ میں نے بھی نبی مجلس میں بیٹھنا ہے، اس لئے آپ میرا انتظار نہ کریں، آپ چلے جائیں۔دس منٹ کے بعد جب انہوں نے سمجھا کہ ہم چلے گئے ہوں گے تو وہ باہر نکل آئے۔میں دیکھتے ہی ان کی طرف بڑھا، میں نے کہا: السلام علیکم، آئیں، سوال کریں۔انہوں نے کہا نہیں، میں نے سوال نہیں کرنا ، وہاں سے دوڑ گئے۔ایک اور دلچسپ واقعہ، جو یہاں رونما ہوا، وہ یہ تھا کہ جب ہم موٹر میں بیٹھنے لگے تو یو نیورسٹی کے ایک طالب علم ہمارے پیچھے پیچھے آگئے اور کہنے لگے کہ ایک بات تو پکی ہوگئی تاکہ عیسیٰ علیہ السلام فوت : ، ہو گئے ہیں، وہ تو نہیں اب بچتے ان کا قصہ چھوڑیں نیا مسیح آنا ہے تو مجھے یہ بتائیں کہ میں کیوں نہیں ہوسکتا ؟ فلاں کیوں نہیں ہو سکتا؟ یعنی یہ تھا، اس تقریب کے نتیجہ میں ان کی سوچ کا رخ۔اب یو نیورسٹی کا ایک سینئر طالب علم ہے اور برملا کہتا ہے کہ یہ غیر احمدیوں نے موقع دیا ہے، ہمیں ان باتوں کے فیصلہ کرنے کا کہ پہلا عیسیٰ فوت ہو گیا ، اس نے اب نہیں آنا تو کہتا کہ میں کیوں نہیں مسیح ہوسکتا ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ہو سکتے ؟ تم بھی ہو سکتے ہو، فلاں بھی ہو سکتا ہے اور فلاں بھی ہو سکتا ہے۔لیکن ایک مشکل ہے کہ جسے اللہ نہ کہے کہ تم مسیح ہو ، وہ نہیں ہوسکتا۔جس کو خدا نے کہنا تھا، کہہ دیا ہے، تمہیں نہیں کہا۔کہتا ہے کہ مصیبت اب یہ ہے کہ بہت سارے دعویدار پیدا ہو جاتے ہیں، اب ہم سچے مسیح کو کس طرح تلاش کریں؟ لیکن یہ سوال اس نے ذرا ٹھہر کر کیا۔اس کے بعد جو اس نے بات کی ، وہ اور بھی دلچسپ تھی۔کہنے لگا: اگر خدا مجھے کہہ دے تو پھر تو میں ہو سکتا ہوں۔میں نے کہا: عقلاً ہو سکتے ہو، جس کو خدا کہہ دے وہ مسیح ہو جائے گا۔اس میں کوئی شک نہیں۔لیکن یہ بتائیں : آپ کو اس کا شوق کیا ہے؟ تمہیں پتہ ہے، پہلے مسیح سے کیا سلوک ہوا تھا اور تمہیں میں نے تھوڑ اسا بتایا ہے کہ نئے مسیح سے بھی کیا سلوک ہو رہا ہے اور کس طرح ہمارے گھر جلائے جار ہے ہیں اور کس طرح ہمیں اپنے مذہب کا نام رکھنے کا حق نہیں دیا جارہا، کس طرح ہماری دکا نہیں لوٹی جاتی ہیں۔اور کس طرح ہمارے زندہ اور فوت شدہ بزرگوں، مردوں اور عورتوں کو گالیاں دی جاتی ہیں۔اس کے برعکس حوصلے سے برداشت کرنے کی ہمیں تعلیم دی جاتی ہے۔ہمارے سر پر جو کچھ گذر جائے ، ہم نے اس کو برداشت کرنا ہے۔جگہ جگہ بچے ذبح کئے جاتے ہیں والدین کے سامنے اور باپ جوان بچوں کے سامنے 736