تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 733
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد اقتباس از خطاب فرموده 30 اکتوبر 1983ء اللہ ایک اور تقریب ہوگی۔اور اب تقریبات پیدا ہوتی رہیں گی۔یہ راہ و رسم جو جاری ہوئی ہے، اب یہ انشاء اللہ تعالی بد نہیں ہو گی۔چنانچہ اس پر پرنسپل صاحب نے بڑی خوشی کا اظہار کیا اور بتایا کہ سارے سکول میں اسلام کے بارہ میں بڑی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔اب میرا خیال یہ ہے کہ ان کو ویڈیوفلمیں بھجوائی جائیں اور اگر وہ اچھی نہ ہوں تو کیسٹیں بھجوائی جائیں اور باقی سکولوں میں بھی اس کو جاری کیا جائے۔آسٹریلیا کا ایک اور اہم پروگرام بھی قابل ذکر ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، وقت بہت مختصر ہے اور باتیں بہت لمبی ہیں۔لیکن یہ پروگرام ایسا ہے، جس کا ذکر بڑا ضروری ہے۔اور یہ ہے آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کینبرا کی تقریب۔ہوا یہ کہ یونیورسٹی کے ایک شعبے نے ہماری جماعت سے درخواست کی کہ ہمیں بھی موقع دیا جائے اور یہاں بھی ایک تقریر ہونی چاہیے۔چنانچہ جب جماعت کے ساتھ پروگرام طے ہو گیا تو اس شعبے پر دوسرے مسلمانوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ شعبہ اپنے وعدے سے پھر گیا اور بڑی معذرت کے ساتھ ان کی چٹھی آگئی کہ ہم مجبور ہو گئے ہیں، دباؤ برداشت نہیں کر سکتے۔اس لئے ہم معذرت کرتے ہیں، ہماری دعوت منسوخ کبھی جائے۔اس یونیورسٹی میں ایک اور شعبہ Hebrew اور مذہبی تاریخ کا ہے، جب ان کو پتہ چلا تو انہوں نے کہا: ہمیں موقع دیا جائے ، ہم تقریر کرواتے ہیں۔جب ان کے ساتھ پروگرام طے ہو گیا تو پہلے شعبہ کے سربراہ نے لکھا کہ جی ہمارا موقع ہمیں واپس کر دو غلطی ہوگئی تھی۔ہم نے کہا: اب تو واپس نہیں ہو سکتا۔اب تو انہوں نے شرافت کا نمونہ دکھایا ہے، ان کا حق ہے۔چنانچہ دوسرے شعبہ میں تقریب طے ہو گئی۔جس دن ہم نے وہاں تقریر کے لئے جانا تھا، اس سے ایک رات پہلے ہمارے مقامی نیشنل پریذیڈنٹ ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب بڑے پریشان ہو کر تشریف لائے اور کہنے لگے: بہت فکر کی خبریں آ رہی ہیں، ابھی اطلاع ملی ہے کہ اس سربراہ کو، جس نے دعوت دے کر تقریر رکھوائی تھی، بڑی سخت دھمکیاں دی گئی ہیں اور اس قدر باؤ ڈالا گیا ہے کہ وہ یو نیورسٹی کے وائس چانسلر کے پاس پہنچے اور کہا کہ اب میرے لئے کیا حکم ہے، اس کو منسوخ کر دوں یا جاری رکھوں؟ وائس چانسلر کوئی صاحب دل آدمی تھے، انہوں نے کہا کہ منسوخ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ لاء اینڈ آرڈر اور سکیورٹی کو قائم رکھیں۔اس لئے بالکل پیچھے نہیں بنا، صدارت بھی خود ہی کرنی ہے اور تقریب کو جاری رکھنا ہے۔اس کے باوجود ڈاکٹر صاحب بڑے پریشان تھے کیونکہ وہاں بعض ایسے لوگ تھے، جو اخوان المسلمین سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے ارادے بظاہر بہت برے تھے۔میں نے ان سے کہا: آپ فکر نہ کریں، دعا کریں، ہمیں تو قطعا کوئی پرواہ نہیں ہے۔یہ مخالفتیں تو ہماری زندگی کا حصہ ہیں اور جب مخالفتیں ہوتی ہیں تو 733