تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 732
اقتباس از خطاب فرمودہ 30اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک طلباء کی اس مجلس میں ایک پادری صاحب بھی موجود تھے ، وہ برداشت نہ کر سکے۔اس سے پہلے جب طلبہ کی ان دو مجلسوں کے درمیان چائے ہوئی تھی تو وہ مجھ سے مل چکے تھے۔انہوں نے بعض سوال کئے، میں نے ان کے جواب دیئے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگوں کے سامنے سوال کیوں نہیں کرتے ؟ لیکن وہ کچھ گھبرا رہے تھے۔کیونکہ انہوں نے جو سوال کئے ، میں نے ان کے جواب دیئے۔لیکن ان کے پاس میرے سوالوں کا جواب کوئی نہیں تھا۔غرض وہ لوگوں کے سامنے بات کرنے سے گھبراتے تھے۔لیکن جب انہوں نے یہ دیکھا کہ آسٹریلین بچے تو محمد رسول اللہ کے بچے بن رہے ہیں تو ان کے دل میں شدید بے چینی پیدا ہوئی اور اٹھ کر جو سوال کیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے اندر کس قدر کڑواہٹ اور کس گھل رہی تھی۔انہوں نے سوال یہ کیا کہ اصل میں تو مزہ تب آتا کہ اگر آپ کے ساتھ ہم دوسرے مسلمان لیڈروں کو بھی بلاتے اور پھر گفتگو کرواتے۔پھر پتہ چلتا کہ بیچ کس کی طرف ہے؟ میں نے کہا: میں آپ کو بتادیتا ہوں کہ انہوں نے کیا کہنا تھا؟ اس لیے آپ مطمئن ہو جائیں کہ آپ نے کچھ بھی Miss نہیں کیا۔میں نے کہا: انہوں نے آکر یہ کہنا تھا کہ (معاذ اللہ ) یہ کافر ہیں، یہ دجال ہیں، یہ جھوٹے ہیں، یہ اسلام کے دشمن ہیں، ان کا اسلام سے تعلق ہی کوئی نہیں۔ہم ان کو باہر نکال بیٹھے ہیں۔ان کا کیا حق ہے کہ خدا اور رسول کی محبت کی باتیں کریں۔اور وہ سب کچھ جو ہم سے کر چکے ہیں، وہ سب کچھ آپ کو بتاتے۔کچھ میں اور بتا دیتا ہوں کہ فلاں ملک میں ہمارے ساتھ یہ کیا، فلاں ملک میں یہ کیا۔یہاں اگر آپ ان کو موقع دیں تو وہ یہاں بھی ہم سے یہی کر کے دکھا ئیں۔تو آپ نے Miss کیا کیا ہے، یہ باتیں تھیں، جو Miss کی ہیں۔اس کے سوا آپ کو بتانے کے لئے ان کے پاس ہے ہی کچھ نہیں۔۔جب میں نے یہ بتایا تو بچے اور بھی زیادہ متاثر ہوئے اور ان کے چہروں سے خوشی ٹیکنے لگی اور انہوں نے محسوس کیا کہ کیا بے ہودہ بات کی ہے اور کیا اس کو جواب ملا ہے۔ایک اور سوال بھی اس نے کیا۔لیکن یہ تفصیلی باتیں ہیں، کیسٹ موجود ہیں، ان کے ذریعہ یہ پروگرام سنے جاسکتے ہیں۔بہر حال خدا کے فضل کے ساتھ اس تقریب کا جماعت پر بھی بہت اچھا اثر ہوا اور آسٹریلین پر بھی۔چنانچہ وہاں سے مظفر احمدی کا مجھے خط ملا ہے۔یہ وہی دوست ہیں، جن کے وہ پرنسپل صاحب واقف تھے۔انہی کے ذریعہ پرنسپل صاحب نے درخواست کی تھی کہ اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے لکھا ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ایک تقریب تو کافی نہیں ہے، اب ہمارے لئے اور تقریبوں کا انتظام کرو۔کیونکہ بچوں میں بھی دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔تو مظفر نے مجھے لکھا کہ میں نے ان کو یہ جواب دیا کہ آپ فکر نہ کریں، اب مسجد مکمل ہوگی تو انشاء ہوئی توانہ 732