تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 728
اقتباس از خطابه فرمودہ 30 اکتوبر 1983ء تحریک جدید -- ایک الہی تحریک الگ طور پر کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ جب انہوں نے الگ بات کی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ اصل بات یہ ہے کہ آپ لوگوں کا قصور ہے۔ہم نے تو اس لئے حتی کی تھی یا بعض تماش بین آئے تھے کہ ہم سمجھتے تھے کہ آپ لوگوں کی بھی ہرے کرشنا کی قسم کی کوئی تحریک ہے۔اور آپ بھی ان کی طرح آکے کچھ چھٹے بجائیں گے اور پیسے مانگیں گے۔کیونکہ اس قسم کے مذہب بڑی کثرت سے پھلے ہوئے ہیں۔کہنے لگے کہ ہمیں تو اس بات کا تصور بھی نہیں تھا کہ کوئی جماعت اتنی سنجیدگی کے ساتھ مذہب میں دلچسپی لے رہی ہے اور بڑے Rational رنگ میں اپنے مسلک کو پیش کر رہی ہے، جو دلوں اور دماغوں کو مطمئن کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔اس لئے ایک تو میں معذرت کے لئے مزید وقت لے رہا تھا، میں شرمندہ ہوں کہ جو شروع کا رویہ تھا، وہ اس وجہ سے تھا۔لیکن یہ آپ کی جماعت کا قصور ہے، جو یہاں بیٹھی ہوئی ہے۔یہ کیوں چپ کر کے بیٹھی رہی؟ ان کو بتانا چاہیے تھا کہ ہم ہیں کون لوگ ؟ اور ہمارے عقائد کیا ہیں ؟ پھر انہوں نے کہا کہ آپ کو شاید معلوم نہیں کہ یہاں مذہب پر لکھنے والے اخباری نمائندوں میں سب سے مؤقر اور سب سے زیادہ صاحب اثر میں ہوں۔اور جتنے بڑے بڑے اخبار ہیں، ان سب کی نمائندگی مجھے حاصل ہے۔اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ کی تائید میں لکھنا میں نے ضرور ہے اور جب میں لکھوں گا تو اخبار شائع بھی کریں گے۔لیکن ایک بات کی معذرت چاہتا ہوں کہ تھوڑا بہت چٹ پٹا بنانے کی خاطر کہیں کہیں حملہ بھی کرنا پڑے گا ، کوئی ایک آدھ فقرہ خلاف بھی لکھنا پڑے گا ورنہ یہاں کی پبلک کہے گی ، یہ ان کے ہاتھوں بک گیا ہے اور مضمون پھیکا رہ گیا ہے۔میں نے کہا: آپ شوق سے حملے کریں۔اگر آپ مخالفت ہی پیدا کر دیں گے، میں تب بھی راضی ہوں۔کیونکہ ہمارا تو یہ تجربہ ہے کہ مخالفت بھی کام آتی ہے اور دوستی بھی کام آتی ہے۔مخالفت کھاد بن جاتی ہے اور دوستی پانی اور ہوا بن جاتی ہے۔ہم تو وہ جماعت ہیں، جس کو کوئی چیز نقصان پہنچا ہی نہیں سکتی۔آپ شوق سے آزمائش کریں۔وہ بڑے خوش ہوئے۔کہنے لگے: اچھا، میں اگر وہاں آپ کے ملک میں آؤں۔میں نے کہا: ضرور آئیں۔آپ ربوہ تشریف لائیں۔انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، میں وہاں آؤں گا اور اگر مجھے توفیق ملی تو میں ضرور آپ کے پاس بھی آؤں گا۔مجھے اب احمدیت میں بڑی دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔جہاں تک ان کی پریس رپورٹنگ کا تعلق ہے، جب انہوں نے مضمون شائع کیا تو اس میں کوئی بھی تیز بات نہیں تھی۔معلوم ہوتا ہے، سوچتے سوچتے ان کا دل اتنازیادہ قائل ہو گیا یا مائل ہو گیا کہ انہوں نے چرکے لگانے بھی بالکل چھوڑ دیئے۔جماعت کا بہت ہی عمدہ اور بڑے اچھے رنگ میں تعارف کروایا۔صرف یہی نہیں بلکہ وہ ہمارے سفیر بن گئے۔دوسرے اخباری نمائندوں کو مل مل کر انہوں نے یہ بتانا شروع کیا کہ تم تو ایک چیز مس (Miss) کر رہے ہو، اس موقع سے فائدہ اٹھاؤ اور جا کر انٹر ویولو۔چنانچہ مذہب 728