تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 727
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ششم اقتباس از خطاب فرمودہ 30 اکتوبر 1983ء پر دلچسپی کا مرکز ہے کہ اس میں اچانک ٹیلیفون کے ذریعہ انٹرویو نشر ہوتے ہیں۔اور یہ وہاں کے ریڈیو کا سب سے اہم اور ہر دل عزیز پروگرام ہے۔یہاں بھی اچانک وہ کہتے ہیں کہ فلاں شخصیت آسٹریلیا میں آئی ہوئی ہے، اس کے ساتھ ہم ٹیلیفون پر باتیں کریں گے اور ٹیلیفون کے ذریعہ جو جواب دیئے جائیں گے ، وہ ساتھ ساتھ نشر ہورہے ہوں گے۔اور اگر کوئی ٹیلیفون کے ذریعہ سوال کرنا چاہے تو براہ راست سوال کر سکتا ہے۔ریڈیو والے اس کو ، جس کا وہ انٹر ویو لے رہے ہوتے ہیں، پہنچا کر وہیں جواب بھی لے دیں گے۔چنانچہ وہ صاحب بھی ٹیلیفون پر انٹرویو کے لئے تشریف لائے اور اگر چہ شروع میں وقت زیادہ دیا گیا تھا۔لیکن اس دن آسٹریلیا میں ایک ایسا واقعہ ہوا تھا کہ جس کی وجہ سے سارے آسٹریلیا کی توجہ اس طرف تھی۔انہوں نے غالباً 134 سال کے بعد پہلی مرتبہ امریکہ سے بادبانی کشتی کی دوڑ جیتی تھی۔چنانچہ اس خوشی کی تقریب کی وجہ سے ریڈیو پر بار بار اعلان ہو رہے تھے ، اس لئے انہوں نے وقت کم کر دیا۔لیکن خدا کے فضل سے اس تھوڑے سے وقت میں بھی عیسائیت کے مقابل پر جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ بڑی عمدگی سے پیش کرنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی۔ریڈیو کے نمائندہ نے سوال ایسے اچھے کئے، جس کے نتیجہ میں جو میں چاہتا تھا کہ تبلیغ کا موقع مل جائے ، وہ میسر آ گیا۔اور اس پروگرام کو جیسا کہ میں نے بتایا ہے، لکھوکھا آدمی سنتے ہیں۔اور چونکہ اس دن خصوصیت سے دوڑ جیتنے کی خبریں بھی نشر ہو رہی تھیں اور اس کے بارہ میں انٹرویو بھی ساتھ نشر ہورہے تھے، اس لئے روزمرہ کے مقابل پر بہت کثرت سے لوگ اس دن ریڈیو پر خبریں سن رہے تھے ، جن میں یہ انٹرویو بھی شامل تھا۔جہاں تک اخباروں کا تعلق ہے، وہاں یہ بات بڑی شدت سے محسوس ہوئی کہ براعظم آسٹریلیا میں جماعت احمد یہ کے تعارف میں بڑی کمزوری پائی جاتی ہے۔چنانچہ جب سڈنی ہلٹن میں پریس کانفرنس ہوئی تو اخبار نویسوں کو کچھ بھی پتہ نہیں تھا کہ جماعت احمد یہ ہے کیا چیز ؟ اس کے خیالات کیا ہیں؟ کس قسم کے عقائد ہیں؟ اور دنیا کو کیا تعلیم دیتی ہے؟ چنانچہ کچھ اخبار نویس تو تماش بینی کے طور پر آگئے تھے اور کچھ مذہبی نمائندے یعنی مذہب پر لکھنے والے لوگ تھے۔ان میں سے ایک مرد اور ایک خاتون تھی، جو اس نیت سے آئے تھے کہ ان کی دھجیاں بکھیر دیں گے، ان پر سخت سوال کر کے ملک سے بھاگنے پر مجبور کر دیں گے۔اور یہ انہوں نے بعد میں خود ہی بتایا۔چنانچہ شروع میں انہوں نے بڑا سخت معاندانہ اور جارحانہ تنقیدی رویہ اختیار کئے رکھا۔لیکن جب پریس انٹر ویو ختم ہوا تو اس وقت تک ان کا رویہ بالکل تبدیل ہو چکا تھا۔چنانچہ ان میں سے جو مرد نمائندہ تھا، اس نے بعد میں لکھا کہ میں الگ وقت لینا چاہتا ہوں۔میں نے کہا: آپ کے سوال کچھ رہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، بس میں نے ایک بات آپ سے کرنی ہے لیکن 727