تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 724
باقتباس از خطاب فرمودہ 30 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک کیونکہ کل کی مجلس کے بعد مجھے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں لازماً مسلمان ہونا ہی پڑے گا۔میری عمر کا کچھ پتہ نہیں، کب مر جاؤں؟ اس لئے میں اللہ سے یہ تو کہہ سکوں گی کہ میں نماز سکھتے سیکھتے مری تھی۔چنانچہ وہ نماز کی کتاب بھی لے کر گئیں اور پہلا سبق بھی لیا۔اس کے علاوہ خدا تعالی کے فضل کے ساتھ وہاں جو متفرق تبصرے موصول ہوئے، ان سے دل کو بڑا ہی سکون ملا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کیسا موازنہ فرمایا ہے۔جن سعید روحوں کو وہ ہدایت دینا چاہتا ہے، کوئی ان کو روک نہیں سکتا۔اور جو فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم نے ہدایت کے قریب نہیں جانا، کوئی ان کو زبردستی ہدایت کی طرف لا بھی نہیں سکتا۔یہ تقدیر الہی ہے اور یہ بھی لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ کا ایک مظہر ہے۔کہ کسی رنگ میں بھی دین میں خدا نے جبر نہیں رکھا۔جس کی خواہش ہے اور جو چاہتا ہے، وہ ہدایت پا جائے گا۔جو نہیں چاہتا، اللہ تعالیٰ اس کو زبردستی ہدایت نہیں دے گا۔اس سے معلوم یہ ہوا کہ ہمارے بس میں تو کچھ بھی نہیں۔یہ تو خدا کا کام ہے اور ہمیں دعا ئیں کرنی چاہئیں، جو لوگ نہیں چاہتے ، اگر ہم عاجزانہ دعائیں کریں تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو بھی بدل سکتا ہے اور وہ اپنے رحم اور شفقت کے ساتھ زیادہ لوگوں کو ہدایت دینے کا فیصلہ فرما سکتا ہے۔کچھ لوگ بے اعتنائی کرتے ہیں تو اس کا جواب یہ تو نہیں کہ ہم بھی ان سے بے اعتنائی کریں۔ایسی صورت حال پر ہی تو غالب کا یہ شعر چسپاں ہوتا ہے۔بہرہ ہوں میں تو چاہیے دونا ہو التفات سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر کہ میں بہرا ہوں، چکوٹھیک ہے۔لیکن دستور تو یہ ہے کہ بہروں سے بار بار بات کی جاتی ہے۔مکرر بات کی جاتی ہے اور اونچی آواز میں بات کی جاتی ہے۔اس لئے میں بھی مکرر کہے بغیر سنتا نہیں۔پس اگر ہمارے بھائیوں کا یہی سلوک ہے تو میں ان کو بتاتا ہوں کہ ہم اپنی بات مکرر اور مکرر اور مکر رکہتے ہی چلے جائیں گے، یہاں تک کہ خدا ہمارے دلوں کی کیفیت کو بھانپے گا اور ہم پر رحم فرمائے گا اور ان کو سننے کے کان عطا فرمائے گا اور ہماری باتیں سمجھنے کی توفیق عطا فر مائے گا۔پس دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ دے اور دل ان کو جو نہ دے ہم کو زباں اور اگر ہمارے کہنے میں کچھ کمزوریاں رہ گئیں ہیں تو ان کمزوریوں کو دور فرمائے۔اگر ان کے دلوں کے زنگ حائل ہیں تو ان کے دلوں کے زنگ دور فرمائے۔ہم نے تو یہ بات سنا کے چھوڑنی ہے اور پہنچا کے چھوڑنی ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ ہم وہ قوم نہیں ہیں، جن کی سرشت میں ناکامی کا خمیر ہوتا ہے۔ہم صاحب عزم 724