تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 698 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 698

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 23 اکتوبر 1983ء وسلم کے عظیم دور سے تعلق رکھنے والا مضمون ہے، جو کئی ٹکڑوں میں پھیلا ہوا ہے۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے اور عجز کے ساتھ اس سے مانگا جائے کہ خدا موجودہ خلافت کے دور میں بھی اس کی بعض خوشکن صورتیں ظاہر فرمادے اور ہمیں اس کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ تو بڑی نیک خواہش ہے، اس کے لئے دعا کرنی چاہیے۔نہ کہ نعرہ بازی کرنی چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ اس مضمون کی تفصیل میں جائیں تو پتہ لگتا ہے کہ مغرب میں جانے اور مشرق میں آنے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔البتہ اس کا ایک پہلو ہے، جس کا حضرت مسیح موعود علیہ لصلوۃ و السلام کے زمانہ سے تعلق ہے۔مشرق اور مغرب کے سفر کی جو تمثیل ہے، وہ اور رنگ میں پوری ہوئی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ خدا نے دنیا کو دورشتوں میں تقسیم کر رکھا تھا اور مغرب اور مشرق کے درمیان تقدیر الہی کی ایک دیوار حائل تھی۔مشرق کو یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ موجزنی کرتے ہوئے مغرب پر حاوی ہو جائے یا مغرب موجزنی کرتے ہوئے مشرق پر حاوی ہو جائے۔حیرت انگیز ہے قرآن کریم کا یہ کلام ، جو گزشتہ ساری تاریخ میں پورا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔چنانچہ مشرق کی موجیں چلتی تھیں تو کبھی وی آنا سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتی تھیں اور کبھی سپین تک پہنچتیں اور واپس آگئیں۔آگے بڑھ کر ان کو مغربی دنیا میں داخل ہونے کی توفیق نہیں ملی۔مؤرخین یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتے ہیں اور ان کو وجہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیا بات ہے کہ مشرق سے ایک رو چلتی ہے اور مغرب سے ٹکرا کر واپس آجاتی ہے اور اسے مغرب میں داخل ہونے کی توفیق نہیں ملتی ؟ حالانکہ اس وقت مشرق طاقتور تھا۔مشرق کو مغرب کی حفاظت کا ذریعہ بنایا گیا تھا۔کیونکہ خدا کی تقدیر نے مغرب کو اٹھانا تھا اور دجال نے وہاں سے پیدا ہونا تھا۔پھر دجال کو روکنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مدد مانگی جانی تھی۔آپ نے روحانی طور پر وہ انتظام فرمانے تھے، جس کے نتیجہ میں دجال کے بداثرات سے قوموں کو بچایا جانا تھا۔پس یہ تو اس تفسیر کا ایک پہلو ہے۔اس کے بعض پہلو بہت وسیع ہیں اور مختلف زمانوں میں ان کے مختلف حصے پورے ہوتے رہے ہیں۔ان چیزوں کے سوچنے کا یہ وقت نہیں ہے۔پہلے آپ بلوغت تک تو پہنچیں۔محبت ایک الگ اور بڑی قابل قدر چیز ہے۔لیکن محبت کے نتیجہ میں آپ کے اعمال میں ٹھوس تبدیلیاں رونما ہونی چاہئیں، جو آپ کی محبت کو سچا کر دکھا ئیں۔محبت کے نتیجہ میں ساری قوم کو تیار رہنا چاہیے کہ جو کچھ وہ کہتی ہے، جب وقت آئے تو عملاً سب کچھ پیش کر کے اپنے دعوے کو سچا کر دکھائے۔لیکن محبت کے نتیجہ میں آپ کو مبالغہ آمیزیاں کرنے یا ان مسائل میں دخل اندازیاں کرنے کا آپ کو کوئی حق نہیں، جو آپ کے لئے بنائے نہیں 698