تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 697
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 23 اکتوبر 1983ء حقیقت یہ ہے کہ عزتوں کی قربانی میں بھی معیار بہت کمزور ہے۔کیونکہ بہت سی باتوں پر لوگ بڑی جلدی سیخ پا ہو کر شکایتیں بھیجتے رہتے ہیں کہ یوں ہماری عزت میں فرق پڑ گیا۔فلاں نے اس طرح ہم سے سلوک کیا، فلاں نے یوں کیا۔حالانکہ زندگی کی یہ ساری باتیں ہمارے عہد کے اندر داخل ہیں۔یہ باتیں ہوتی رہتی ہیں۔اگر کسی عہدیدار کی غلطی سے کسی کی بظاہر بے عزتی بھی ہو جائے ، تب بھی جس نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ میرا رہا ہی کچھ نہیں، سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان ہے۔وہ شکایت تو بعد میں کر دے تا کہ زیادتی کرنے والے کی اصلاح ہو جائے۔لیکن اپنا صدمہ اس کو نہیں ہونا چاہیے۔کیونکہ جس کے دل میں سچا ایمان اور خلوص ہوتا ہے، بہر حال اس یقین پر قائم ہوتا ہے کہ جتنا میں کسی کی غلطی سے گرایا گیا ہوں، اتنا اللہ کی نظر میں اٹھایا گیا ہوں اور خدا کی نظر میں میرا مرتبہ بڑھ چکا ہے۔یہ ہے وہ حقیقت حال ، جس کے ساتھ خدام کو زندہ رہنا چاہئے۔دوسری بات میں یہ کہوں گا کہ اس وقت قرآن کریم کی تلاوت کے لئے جن آیات کا انتخاب کیا گیا ہے، اس سے میرا ماتھا ٹھنکا تھا کہ کچھ اس قسم کی باتیں سپاسنامہ میں کریں گے۔چنانچہ سپاسنامہ کے بارے میں میرار عمل اسی وجہ سے تھا۔میں نے آپ کو بارہا سمجھایا ہے۔میرا فرض ہے، میں آپ کو سمجھاؤں ، آپ کے جذبات محبت کی قدر بھی کروں لیکن آپ کو حقائق کی دنیا میں رکھوں اور آپ کے دائرہ کار سے آپ کو باہر قدم نہ رکھنے دوں۔قرآن کریم کی اس طرح کی تفسیر کر دینا کہ گویا کہ ایک خلیفہ وقت نے پچھلے سال مغرب کا سفر کیا اور پھر اب مشرق کا سفر کیا تو گویا وہ ذوالقرنین بن گیا، سیج نہیں ہے۔یہ تو انسان کے بس کی باتیں نہیں ہیں۔نہ آپ کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔تفسیر قرآن اگر کرنی ہے تو اس نے کرنی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے گا۔جس کو اس منصب پر مقرر کیا ہے، اس کی جب رہنمائی فرمائے گا تو وہ تفسیر کرے گا۔لیکن ان باتوں میں اتنی جلدی فیصلے کر لینا اور ان کو قوی فیصلے بنالینا اور ان کو نعروں میں اتار لینا اور سپاسناموں میں پیش کرنا، یہ چیز مجھے پسند نہیں ہے۔اور اس لئے پسند نہیں ہے کہ یہ غلط طریق ہے۔مجھے اس میں خطرات نظر آرہے ہیں۔اگر اس رجحان کو بند نہ کیا جائے تو اس طرح قوم آہستہ آہستہ بگڑنے لگ جاتی ہے۔پس اس کا ایک فائدہ تو ہو گیا ہے کہ جو غلطی مجھے نظر آرہی تھی، وہ کھل کر سامنے آگئی۔پہلے اشاروں اشاروں میں باتیں ہو رہی تھیں اور میں انتظار میں تھا کہ کہیں کھل کر باتیں ہوں تو میں پکڑوں۔ذوالقرنین کے متعلق قرآن کریم میں جو مضمون بیان ہوا ہے، ایک بہت وسیع مضمون ہے۔اس کو ایک چھوٹے سے دائرے میں محدود کر کے بچگانہ ترجمہ کرنا صحیح نہیں ہے۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ 697