تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 696
خطاب فرموده 123 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک خدا کے دین پر نچھاور کرنے کے لئے تیار رہیں گے۔لیکن اگر آپ واقعاتی لحاظ سے حالات پر نظر ڈال کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ابھی ہمارے اندر بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔نظریاتی قربانیوں کا معیار اونچا ہے اور عملی قربانیوں کا معیار نیچا ہے۔اور ان کے درمیان پلیٹ فارمز کا فرق ہے۔ایک اور پلیٹ فارم پر واقع ہے اور دوسری اور پلیٹ فارم پر واقع ہے۔تاہم یہ مراد نہیں ہے کہ نعوذ باللہ سب کا یہ حال ہے۔سب ایسے نہیں۔لیکن ایسے واقعات کثرت سے نظر آتے ہیں کہ جب ادنی ادنی ابتلاء آئیں تو لوگ گھبرا جاتے ہیں۔چھوٹی سی قربانی کرنی پڑے تو بعض پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔قائد خدام الاحمدیہ بلانے کے لئے جاتا ہے تو اندر سے پیغام آجاتا ہے کہ ابا جان گھر پر نہیں ہیں۔قائد مجلس کسی اجلاس کے لئے ان کو روکتا ہے۔تو کہتے ہیں، ہمیں جلدی ہے، ہم نے جاتا ہے۔ان کا نفس کئی بہانے بناتا ہے۔ان واقعات کو دیکھ کر محض لفظوں پر دل کس طرح تسلی پاسکتا ہے۔اس لئے میں آپ کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جذبات کے لحاظ سے یہ درست ہے کہ ہمیں تیار ہونا چاہیے۔لیکن نظریات کو جب تک واقعات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کریں گے، جب تک جذبات کو واقعیت عطا نہیں کریں گے، اس وقت تک ہم بڑے انقلابات کے خواب نہیں دیکھ سکتے۔دیکھ سکتے ہیں لیکن ان کی کوئی تعبیر نہیں ہوگی۔کیونکہ یہ بھی خواہیں ہیں اور وہ بھی خواہیں ہیں۔ان سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔اس لئے میں آپ کو پھر یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں تک خلافت کے ساتھ محبت کا تعلق ہے، اس کا اظہار بے شک کریں۔میں خود اس دور سے گذر چکا ہوں۔میرا اپنا بھی جذبہ تھا، میری اپنی بھی یہی کیفیت تھی اور اب بھی ہے، جو آپ کی ہے۔منصب خلافت کی خاطر میری ہر چیز قربان ہے۔ان جذبات میں تو کوئی مبالغہ نہیں ہے۔یہی ہونا چاہیے۔کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا انعام ہے جو دنیا کو ایک لمبے عرصہ کی محرومی کے بعد دوبارہ عطا ہوا ہے، اس لئے اس کو میں ہرگز مبالغہ نہیں کہتا۔خلافت سے محبت وعقیدت کے جذبات کو بڑھنا چاہیے۔مگر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ جذبات محبت کو حقیقت بھی تو بننا چاہیے۔صرف دلوں کے ساتھ کھیلنے والے جذبات نہیں ہونے چاہئیں۔صرف نظریات میں بسنے والے جذبات نہیں ہونے چاہئیں بلکہ تمام عہدیداران کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ہر احمدی کے قربانی کے معیار کو بلند کیا جائے۔اور جب اس کا دل کسی تقاضے سے گھبرائے تو اس کو نچو کا دیا کریں، اس کو جگایا کریں، اس سے پوچھا کریں کہ تم یہ جو باتیں کرتے ہو کہ ہم یہ کریں گے، وہ کریں گے اور ہر دفعہ عہد دوہراتے ہوئے کہتے ہو کہ میں جان، مال، وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لئے ہر دم تیار رہوں گا۔تو کیا یہ دم ، وہ دم نہیں ہے، جس دم کے تم نے وعدے کئے تھے؟ کیا یہ عزت ، وہ عزت نہیں ہے؟ کیا یہ مال، وہ مال نہیں ہے؟ جسے قربان کرنے کے لئے تم نے عہد کیا تھا۔696