تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 692
اقتباس از خطاب فرمودہ 22 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم آپ بے بہرہ تھے لیکن ساری دنیا کے معلم بنائے گئے۔اور جب آپ " کو رحمتہ للعالمین کہا گیا تو اس کی بنیاد بھی اللہ کی محبت ہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو خالق سے سچی محبت کرتا ہے ، وہ اس کی مخلوق سے بھی لازماً محبت کرتا ہے۔اور مخلوق سے محبت کے سارے دعوے جھوٹے ہیں۔اگر خالق کی محبت میں اس کی جڑیں نہ ہوں اور وہ دعوے عارضی ثابت ہوتے ہیں اور معمولی زلازل سے بھی ان کا پول کھل جاتا ہے۔خدا کی محبت کے بغیر دنیا میں بنی نوع انسان کی ہمدردی کی جتنی بھی سوسائٹیاں ہیں، جب بھی قوموں پر مصائب کے دن آتے ہیں تو ان کی محبت کا کھو کھلا پن ظاہر ہو جاتا ہے۔جب اپنی خود غرضیوں سے دوسروں کے مصائب ٹکرائیں تو وہی دل انسان کے لئے بڑے ظالم بن جاتے ہیں۔پس حقیقت یہی ہے کہ بنی نوع انسان کی سچی محبت، اللہ تعالیٰ کی محبت سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اس راز کو سمجھئے اور جب آپ خدا تعالیٰ کی محبت اور تقویٰ سے بات کریں گی تو لازماً اس کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ آپ کے دل میں بات نہ مانے والوں کے خلاف نفرت پیدا نہیں ہوگی بلکہ ان کے لئے ہمدردی پیدا ہوگی ، ان پر رحم آئے گا کہ ہم ان کی بھلائی کے لئے کام کرتی ہیں اور یہ ہماری بات نہیں مان رہیں۔اگر اس طرح نصیحت کریں گی تو مجھے نظر آرہا ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ احمدی عورتیں خدا تعالیٰ کے فضل سے نیکی قبول کرنے کا مادہ رکھتی ہیں۔آپ صبر سے کام لیں تو دن بدن آپ کا دائرہ وسیع ہوتا چلا جائے گا۔وہ عورتیں ، جو آپ کو BORDER پر یعنی احمدیت کے کناروں پر نظر آرہی ہیں، وہ اندر کی طرف حرکت کرنی شروع کریں گی۔اور ہمیں نظر آرہا ہے کہ ساری دنیا میں کوئی ایک بھی ملک ایسا نہیں ہے، جہاں احمدی عورت نے یہ بات ثابت نہ کی ہو کہ نیکی کے اثر کو قبول کرنے کا مادہ اس میں موجود ہے۔اس لئے گھبراہٹ کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ دیکھیں کہ دن بدن آپ کی زمین پھیل رہی ہے کہ نہیں۔آج کا اجتماع بھی اس بات کا مظہر ہے کہ لجنہ اماءاللہ کی زمین اللہ کے فضل سے پھیلتی جارہی ہے۔لوگ زیادہ سے زیادہ لجنہ کے اثر کے تابع آتے چلے جارہے ہیں۔اس لئے مایوسی کا کون سا مقام ہے۔آپ کو تو یقین سے بھر جانا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کی کوششیں اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبولیت پارہی ہیں اور دن بدن خدا تعالیٰ ان کو برکت دیتا چلا جارہا ہے۔جب اللہ تعالیٰ سے محبت کی بات ہو تو تعلق باللہ ، جس کے نتیجہ کی طرف بھی ذہن پھر جاتا ہے۔وہی در اصل انسانی زندگی کی غذا ہے، روحانی زندگی کی غذا ہے۔جس کے نتیجہ میں انسان دنیا کی زندگی سے کٹ کر بھی لذت کی زندگی پالیتا ہے۔جب ہم مغربیت سے آزادی کی بات کرتے ہیں تو بظاہر یہ ایک منفی بات ہے۔بظاہر ایک پیغام ہے کہ تم دنیا کی لذتوں سے کٹ جاؤ اور خدا کی خاطر ایسا کرو۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم لذتوں 692