تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 60
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 ستمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے۔پہلے اس پر عمل کرنے کا مخلصانہ ارادہ کریں۔پھر اللہ تعالیٰ اس عظیم الشان مقصد کے حصول میں آپ کی مدد فرمائے گا۔استقلال کے ساتھ ، کسی جذباتی ابال کے نتیجہ میں نہیں۔یہ ایک ایسا کام ہے، جس کے لئے غالباً ہمیں نسلاً بعد نسل کام کرنا پڑے اور اس عظیم الشان مقصد کے حاصل کرنے میں توانائیاں صرف کرنی پڑیں۔چنانچہ ہمیں تھکے ہوئے لوگ نہیں چاہئیں۔اللہ تعالیٰ اور قرآن کریم ہمیں بتاتے ہیں کہ ایسے فرشتے ہیں، جو خدا تعالیٰ کی تعریف کرتے ہوئے تھکتے نہیں۔یہی حال حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کا ہے، جو اسلام کے مقدس بانی کی بیان فرمودہ عظیم الشان مقصد کو فتح و ظفر کے نعرے لگاتے ہوئے حاصل کرتے ہیں۔زندگی میں یہ آپ کا مقصد ہے۔اللہ تعالیٰ کی نظروں میں آپ کا یہ مقام ہے۔پس اٹھیں۔آپ کیوں ان کم درجہ ایشیائیوں کی طرف دیکھتے ہیں، جو یہاں آکر اپنی اقدار گم کر بیٹھے ہیں، احساس کمتری کا شکار ہو کر گمراہ ہو بیٹھے ہیں؟ لیکن آپ ان سے مختلف ہیں۔آپ یہ سمجھتے کیوں نہیں؟ مجھے اس بات سے سب سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔نہ صرف ارد گرد کے لوگوں کی حالت دیکھ کر بلکہ احمدیوں کو عام آدمیوں جیسا دیکھ کر۔جبکہ آپ معمولی آدمی نہیں۔مجھے بہت دکھ پہنچتا ہے اور میں اللہ تعالی سے فریاد کرتا ہوں کہ اے خدا! میرے یہاں آنے کا مقصد کیا ہے، اگر میں احمدیوں کو بھی تیرے پیغام پر قائم نہیں رکھ سکتا؟ اگر میں انہیں ان کا مقام ہی نہیں سمجھا سکتا، پھر تو میرے لندن اور گلاسگو اور فرینکفرٹ اور ہمبرگ کی گلیوں میں گھومنے کا مقصد ہی کیا ہے؟ پھر تو میں ہزاروں ، لاکھوں عام سیاحوں کی مانند ہی ہوں۔میں تو یہاں اس مقصد سے نہیں آیا۔اور مجھ میں احمدیوں کے دلوں کو گرفت میں لے لینے کی طاقت تو نہیں ، میری مددفرما۔سوجیسا کہ میں منکسر المزاجی سے اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرتا ہوں ، آپ بھی اسی انکسار سے اپنی خاطر اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کریں۔اپنی آئندہ نسلوں کی خاطر ، بنی نوع انسان کی خاطر جو مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔تب آپ عظیم نشانات اترتے دیکھیں گے۔بڑی بڑی تبدیلیاں انشاء اللہ رونما ہوں گی۔اور آپ کے ان مادی جسموں سے آپ کی روحیں بلند ہوں گی۔اور ان ممالک میں ایک نئی جماعت کا قیام ہوگا۔اور یہ ہے احمدیت کا وہ پیغام، جو میں آپ کو دینا چاہتا ہوں۔اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یہ انشاء اللہ ضرور اثر انداز ہوگا۔(خطبات ظاہر جلد اول صفحہ 163 168 60