تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 688
اقتباس از خطاب فرموده 22 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم سکتا ہے، اس کے مطابق ہم کہہ سکتے ہیں۔ویسے تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کا تعلق ہے اور کس کا نہیں ہے؟ مگر جہاں تک ان کے خواہر کا تعلق ہے، جہاں تک ان کے نظر آنے والے اعمال کا تعلق ہے، ان میں اینی کمزوریاں نہیں ہونی چاہئیں کہ جب وہ دوسروں کو نصیحت کریں تو وہ ان کی کمزوریاں انہیں دکھائیں۔اس کے علاوہ جہاں تک ممکن ہو، ان خواتین کومختلف زبانیں بھی آنی چاہئیں۔انگریزی اگر آتی ہو تو چونکہ دنیا کا ایک بڑا حصہ انگریزی جانتا ہے، اس لئے اس سے گزارہ چل سکتا ہے۔علاوہ ازیں اگر دوسری مشرقی زبانیں آتی ہوں تو بہت بہتر ہے۔اور زبانوں سے متعلق میں نے پچھلے سال بھی کہا تھا کہ زبانیں سکھانے کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔عربی کے علاوہ مشرقی اور یور چین زبانیں سکھانی چاہیں۔پس ایسا مرکزی دورہ ہونا چاہیے، جو اس بات کی نگرانی کریں اور واپس آکر رپورٹ کریں کہ ہم نے فلاں فلاں لجنہ میں کیا کیا خامیاں دیکھیں؟ اور کس پہلو سے ان کی تربیت کی ؟ سب سے بنیادی چیز جس کی آج ضرورت ہے، وہ عورت کی آزادی ہے۔ہماری عورتیں اس بات کا حق رکھتی ہیں کہ انہیں آزادی دلائی جائے۔مگر کس چیز سے آزادی؟ اس کی میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔آسٹریلیا ہی میں ایک عیسائی نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ مجھے بتائیے ، باقی باتیں تو سب ٹھیک ہیں، بعورت کی آزادی کے متعلق آپ کیا کوشش کر رہے ہیں؟ میں نے اسے جواب دیا کہ عورت کی آزادی کا مسئلہ میرے لئے سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔اور سب سے زیادہ مجھے اس بات کی فکر رہتی ہے کہ ہم عورت کو کس طرح آزاد کروائیں؟ اس نے میرے جواب کے اس حصہ کو سن کر بڑی دلچسپی لی۔مگر میں نے اس سے کہا کہ آپ کے آزادی اور میرے آزادی کے تصور میں کچھ فرق ہے۔مجھے سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ مغربیت سے عورت کو کس طرح آزاد کروائیں؟ کیونکہ سب سے بڑا ز ہر ، سب سے بڑی ہلاکت، جس نے دنیا کو تباہ کر رکھا ہے، وہ مغربیت ہے۔نہ آپ کی سوسائٹی کا اس نے کچھ رہنے دیا ہے، نہ ان مشرقی ممالک کا کوئی حال چھوڑا ہے، جو مغربیت کی ظاہری کشش سے متاثر ہو کر رفتہ رفتہ اس کے جادو تلے محصور ہوتے چلے جارہے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس مغربیت نے نہ آپ کو امن دیا، نہ ان پسماندہ ممالک کو امن بخشا، جہاں رفتہ رفتہ یہ اپنے جال پھیلا رہی ہے۔اور لاکھوں، کروڑوں کی تعداد میں گھر برباد کر دیئے ہیں۔عورت کی عصمت کی حفاظت کرنے کا تصور تو در کنارا سے آزادی کے نام پر جانور بننے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ یہ آزادی محض چند بد بخت عیاشوں کا تصور ہے، جو انہوں نے ساری دنیا کی عورتوں کو اپنا غلام بنانے کے لئے اختیار کیا ہے۔آج عورت کھلونا بن گئی ہے اور ایک ادنی 688