تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 686
اقتباس از خطاب فرموده 22 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک گویا یہ بھی ایک مغربی ملک ہی ہے اور عیسائی ملک ہے۔ان کے رجحانات اس لحاظ سے بہت ملتے جلتے ہیں۔اسلام کی دوسری تعلیم کے متعلق سوالات و جوابات کے دوران جب بھی انہوں نے محسوس کیا کہ لوگ متاثر ہورہے ہیں تو سب سے بڑا حربہ جو انہوں نے ہمارے خلاف استعمال کیا ، وہ یہی تھا کہ آخر پر عورت سے متعلق ایک سوال بچا کر رکھا ہوتا تھا اور پھر وہ بڑا مسکرا کر اور بڑی لہک کے ساتھ یہ سوال پیش کیا کرتے تھے کہ اب بتاؤ، اس کے بعد مغربی دنیا پر اسلام کا کیا اثر باقی رہ سکتا ہے؟ جب تم عورت کے معاملے میں بتاؤ گے کہ اسلام کی یہ تعلیم ہے ، تب ہم دیکھیں گے کہ کس طرح تم ہمارے دل جیت سکتے ہو؟ پس بیان کا رجمان تھا۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ اسلامی تعلیم کسی مقام پر بھی شکست نہیں کھاتی۔اور جب تحمل اور حوصلے کے ساتھ انہیں اسلامی تعلیم کے مختلف پہلو بتائے گئے تو بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ جو مستورات شامل تھیں، انہوں نے اقرار کیا کہ ہاں یہی تعلیم بہتر ہے۔چنانچہ آسٹریلیا ہی میں ایک ایسی مجلس میں شرکت کا موقع ملا، جہاں ایک سو عیسائی آسٹریلین باشندے شامل ہوئے۔ایک احمدی خاندان نے ان کی دعوت کی ہوئی تھی اور بڑے اخلاص سے انہوں نے اس کا انتظام کیا ہوا تھا۔ان کا دائرہ اثر خاصہ وسیع ہے، اس لئے چھوٹے سے قصبہ کے تمام قابل ذکر لوگ بکثرت اس میں شامل ہوئے تھے۔وہاں سوالات و جوابات بھی ہوئے۔اس میں عورت کا بھی سوال اٹھایا گیا۔اور اگر چہ میں سمجھتا ہوں کہ وہاں بدنیتی سے نہیں اٹھایا گیا کیونکہ وہاں سارے ماحول میں بڑی محبت اور دوستی کا رنگ پایا جاتا تھا۔مگر بہر حال یہ سوال اکثر اوقات کیا جاتا ہے۔اس مجلس کے اختتام کے بعد دوسرے دن ایک عورت اس خاندان کے پاس آئی اور اس کا تاثر یہ تھا اس مجلس کے متعلق ، اس نے کہا: میں نے ایک فیصلہ تو کر لیا ہے اور میرا دل اس یقین سے بھر گیا ہے کہ آخر ہمیں لازما مسلمان ہونا پڑے گا۔لیکن اس کے لئے بھی کچھ ہمت چاہیے، کچھ مزید مطالعہ کی ضرورت ہوگی۔تاہم ایک فیصلہ میں نے آج ہی کیا ہے کہ جب مسلمان ہونا ہی ہے تو کم سے کم نماز پڑھنی تو سیکھ لوں۔اس لئے تم مجھے ابھی سے نماز شروع کروادو۔اور دوسرے اس نے کہا کہ میں معمر عورت ، موت کاکوئی پتہ نہیں ، اس لئے میں چاہتی ہوں کہ اگر میر اوقت آئے تو میں خدا سے یہ تو کہہ سکوں کہ اسلام سیکھتے سکھتے مری ہوں۔پس دنیا میں عورتیں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اسلامی تعلیم سے متاثر ہو رہی ہیں۔اور جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ اسلام تمہارے لئے زیادہ امن اور زیادہ خوشحالی کی زندگی پسند کرتا ہے۔اور تمہیں مختلف قسم کی قیدوں سے آزاد کرتا ہے، نہ کہ قیدوں میں مبتلا کرتا ہے تو وہ اس بات کو سمجھ جاتی ہیں۔لیکن 686