تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 680
خطاب فرمودہ 22 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک قادیان میں ایک بزرگ ہوتے تھے، جن کو لوگ مانا صاحب کہتے تھے۔ماٹا مرحوم کے متعلق قصہ یہ مشہور ہے کہ ویسے تو وہ بڑے نیک آدمی تھے لیکن پیدائشی احمدی نہیں تھے۔ان کو بچپن سے گندی گالیاں دینے کی عادت پڑی ہوئی تھی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس کسی نے شکایت کی کہ حضور! آپ ان کو سمجھا ئیں، آپ اس سے بڑا پیار کرتے ہیں۔گو یہ اچھے نوجوان ہیں اس زمانہ میں تو نو جوان ہی تھے ) لیکن گندی گالیوں کی عادت ہے۔چنانچہ حضرت خلیفة المسیح الاول نے ان کو بلایا اور بڑے پیار سے سمجھایا کہ دیکھیں! آپ بڑے اچھے آدمی ہیں، نیک ہیں، نمازی ہیں لیکن یہ جو آپ لوگوں کو گندی گالیاں دیتے ہیں، یہ ٹھیک نہیں۔یہ بات آپ کو بھی نہیں۔اس پر وہ نہایت گندی گالی دے کر کہنے لگے کہ کس جھوٹے نے حضور کو بتایا ہے، میں تو گالی دیتا ہی نہیں۔غرض بعض دفعہ پتہ بھی نہیں لگتا۔اس لئے یہ نظام سلسلہ کا کام ہے کہ وہ بچوں پر نظر رکھے اور ان کو یہ بات بتائے کہ تمہارے اندر یہ یہ برائیاں موجود ہیں۔تم ان کو دور کرنے کی طرف توجہ دو اور اپنی اصلاح کی فکر کرو۔بچو! یا درکھو، سچ ایک ایسی چیز ہے، جو انسان کے کردار کو بناتی ہے۔مگر اب بیچ غائب ہوتا جارہا ہے۔اب تو بڑوں کی سوسائٹی میں یہ ایک ایسا جانور بن گیا ہے، جس کو شاید کہیں کہیں آپ دیکھیں۔ورنہ عام طور پر یہ کہیں نظر ہی نہیں آتا۔اور بیچارے انسان کا عجیب حال ہے کہ دنیا کے جو عام جانور ہیں، جب وہ کم ہونے شروع ہو جائیں تو اس کو ان کی فکر پڑ جاتی ہے اور کہتا ہے کہ ان کو بچانے کا انتظام کرو۔چنانچہ آسٹریلیا میں ابھی لاکھوں کی تعداد میں کینگرو ہے لیکن ان کو فکر پڑی ہوئی ہے کہ یہ جانور نظروں سے غائب نہ ہو جائے۔یہ کم ہوتا چلا جارہا ہے، اس کی حفاظت کا انتظام کیا جائے۔اسی طرح طوطوں کی حفاظت کا انتظام ہو رہا ہے، چیلوں کی حفاظت کا انتظام ہو رہا ہے، گدھوں کی حفاظت کا انتظام ہو رہا ہے، کو آلہ ( Kuala) ایک جانور ہے، اس کی حفاظت کا انتظام ہورہا ہے۔غرض ان قوموں کو تو یہ فکر ہے کہ جانور بھی نظروں سے غائب نہ ہو جائیں۔لیکن یہاں سچ غائب ہورہا ہے اور کسی کو اس کی فکر نہیں ہے۔بلکہ کہتے ہیں کہ یہ جانور غائب ہو ہی جائے تو اچھا ہے۔جہاں بھی ظاہر ہوتا ہے، مصیبت ہی ڈالتا ہے۔مگر اے بچو! آپ نے اس کی حفاظت کرنی ہے۔آپ احمدی بچے ہیں، آپ نے اس میدان کو جیتنا ہے۔اگر آپ نے سچ کی حفاظت نہ کی تو آئندہ کبھی کوئی اس کی حفاظت کرنے والا نظر نہیں آئے گا۔یہ سچ کی عادت ہے، جو انسان کے کام آیا کرتی ہے۔اگر آج آپ کو خدانخواستہ جھوٹ کی عادت پڑ گئی تو پھر بڑے ہو کر آپ کو کوئی سچا نہیں بنا سکے گا۔اگر بنا سکے تو پھر اس پر بہت محنت کرنی پڑے گی۔680