تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 679 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 679

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 22 اکتوبر 1983ء تھے کہ تم اپنے سوال بھی کرو۔چنانچہ بعض بچے اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کے متعلق سوال بھی کرتے رہے۔تو بلا استثناء ہم نے یہ دیکھا کہ تھوڑے عرصے کے اندر اندر ہی ان بچوں کی کیفیات بدل گئیں۔ان کے اندر غیر معمولی محبت اور پیار کا جذبہ پیدا ہو گیا۔احمدیت کے ساتھ ایک گہرا تعلق قائم ہو گیا اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان کی نگاہوں کا اجنبی پن بالکل مٹ گیا۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ اب باہر کی چیزیں نہیں رہے بلکہ اندر کی چیزیں بن گئے ہیں۔وہ جماعت کے وجود کا ایک حصہ بنتے نظر آرہے تھے۔پس ان کا یہ مطالبہ تو درست ہے کہ ان کے بچوں کی تربیت کے لئے جماعت ان کی مدد کرے۔لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ مرکز کی طرف سے ایسے دورے ہوں کہ گویا ساری دنیا میں مرکز کا کوئی نہ کوئی آدمی ہر وقت موجود ہے۔مربیان ہیں، ان کی تعداد بھی تھوڑی ہے اور وہ ہر جگہ، ہر ملک میں نہ تو موجود ہیں۔جہاں موجود بھی ہیں، وہاں احمدیوں کی تعداد خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی زیادہ ہے کہ سب بچوں کی تربیت کر ہی نہیں سکتے۔اس لئے صرف لٹریچر کے ذریعہ اس طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے بلکہ نئے آلات کے ذریعے ہمیں تربیت کے پروگرام بنانے پڑیں گے۔اور میں بچوں سے یہ کہتا ہوں کہ اب آپ نے بڑے ہو کر ساری دنیا کے بوجھ اٹھانے ہیں۔اس لئے ابھی سے اپنی فکر کریں۔اس عمر میں اگر آپ کی صحیح تربیت ہو جائے تو پھر ہمیشہ کے لئے آپ کو ضمانت مل جائے گی۔آج جو اچھی عادتیں آپ اپنے اندر پیدا کرلیں گے، وہ آپ کو ساری زندگی میں کام دیں گی۔آج کا بچہ کل کا احمدی نوجوان بن رہا ہو گا، پرسوں کا احمدی بوڑھا بن رہا ہو گا۔اس لئے آج ہی اپنے اخلاق کی طرف توجہ کریں، اپنی عادات کی طرف توجہ کریں، اپنے حالات کی طرف توجہ کریں اور ان کو درست کرنے کی کوشش کریں۔بچو! آپ سے ایک چھوٹا سا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ آپ عہد کریں کہ ہمیشہ سچ بولیں گے اور گندی زبان استعمال نہیں کریں گے۔لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کتنے احمدی بچے ہیں، جو اس عہد کو خاص طور پورا کر رہے ہیں۔(اس موقع پر بہت سے اطفال نے ہاتھ اٹھالئے تو حضور نے فرمایا ہاں ، ٹھیک ہے، میں نے ابھی ہاتھ اٹھانے کے لئے نہیں کہا تھا۔خدا کرے، یہ سارے بچے اپنے عہد کو پورا کر رہے ہوں۔لیکن بعض دفعہ کوئی احمدی گالی دیتا ہے تو اس کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ میں گالی دے رہا ہوں۔اس لئے اپنی طرف سے آپ نے سچائی سے بھی ہاتھ کھڑے کئے ہوں لیکن ابھی تک یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سارے بچے وہ ہیں، جو بالکل گالی نہیں دیتے۔جن کو گالی کی عادت پڑ گئی ہو، ان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ گالی دے رہے ہیں۔679