تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 678
خطاب فرمودہ 22 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد ششم احمدی بچے بھی سنبھلیں، ان کو بھی پتہ لگے کہ ہمارا رستہ اور ہے۔اور غیر بھی دیکھیں تو ان کو بھی محسوس ہو کہ احمدی بچے کے کیا افکار ہیں؟ اس کی کیا بلند پرواز یاں ہیں؟ وہ محض تصور میں آسمان کے ستاروں کو سر نہیں کر رہا بلکہ ان ستاروں کے خدا سے تعلق جوڑنے کی سوچ اور فکر کر رہا ہے۔وہ مخلوق کو فتح کرنے کے ہوائی منصوبے نہیں بنارہا بلکہ خالق کی نظر میں محبوب اور مقرب بننے کی کوشش کر رہا ہے۔احمدی بچے کا یہ کتنا بلندتر مقام ہے، دنیا کے اس بچے کے مقابل پر، جس نے محض مادی تسخیر ہی کو اپنی زندگی کامد عا بنالیا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ احمدی بچوں کو مغربی تہذیب کی اچھی باتوں، دلچسپ چیزوں اور سائنسی علوم سے آشنا کرنے کے لئے کوئی مناسب اور دلچسپ انتظام بھی ہمیں بہر حال کرنا چاہیے۔مثلاً ایسی وڈیو ریکارڈنگ اور ایسی تصویریں، جن میں سائنس کی ترقیات ، زندگی کے واقعات اور جانوروں کے حالات اور اس قسم کی دوسری چیزیں دکھائی جائیں، جن کو دیکھ کر بچے لطف بھی اٹھاتے ہیں اور ان کا علم بھی بڑھتا ہے، اس قسم کی چیزوں کو رواج دینا چاہئے۔ٹیلیوژن کے بیہودہ کھیلوں اور گانوں کی بجائے ایسی ویڈیوریکارڈنگ تیار ہونی چاہیے، جس میں بچہ نہایت ہی سریلی آواز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام سنا رہا ہو یا او نظمیں پڑھ رہا ہو۔اسی طرح تلاوت بھی بچوں کی نہایت ہی سریلی آواز میں سنائی جائے اور سکھائی جائے۔اس قسم کے بہت سے پروگراموں کی ہمارے پاس گنجائش موجود ہے۔باہر سے بھی مطالبے ہور ہے ہیں۔چنانچہ میں جن ملکوں میں بھی گیا ہوں، وہاں کی ہر جماعت کی طرف سے یہ مطالبہ بڑی شدت کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے کہ بچوں کو گندے ماحول سے بچانے کا انتظام کیا جائے۔وہ کہتے ہیں، ہم اپنے بچوں کو ایسے سکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہیں، جہاں وہ مغربی تہذیب کی برائیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ایسے اثرات کو مٹانے کے لئے جماعت ہماری مدد کرے۔ورنہ اگر ان باتوں میں زیادہ دیر گزرگئی تو ہوسکتا ہے کہ ا ہمارے بچے ہاتھ سے نکل جائیں یا ان کے رجحانات بدل جائیں۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ احمدی بچوں میں ابھی سعادت اور نیکی کا مادہ موجود ہے۔اس عمر میں ان کو سنبھالا جائے تو جلدی سنبھل سکتے ہیں۔چنانچہ جہاں کہیں مجھے جانے کا موقع ملا، میں نے دیکھا کہ جب ہم شروع میں جاتے تھے تو اس ماحول کے پیدا ہوئے ہوئے بچوں کی آنکھوں میں عجیب اجنبیت پائی جاتی تھی۔بچوں کی طرز زندگی ، ان کا اٹھنا بیٹھنا ہم سے بالکل مختلف ہوتا تھا۔وہ سمجھتے تھے، پتہ نہیں کس دنیا کے یہاں لوگ آگئے ہیں اور ہم سے کیا باتیں کریں گے؟ جب ان کے والدین کبھی پیار سے سمجھا کر اور کبھی تھوڑا سا ڈانٹ کر مجالس میں لے کر آتے تھے اور بٹھاتے تھے اور ان کو باتیں سناتے تھے۔پھر ان کو کہتے 678