تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 677
خطاب فرمودہ 22 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ہوتے۔ٹیلیویژن کے اشتہارات بھی بچوں میں نئے نئے خیالات پیدا کرتے چلے جارہے ہیں۔یہاں تک کہ بچوں کا Out look یعنی زندگی کا نظریہ ہی بدل گیا ہے۔ان کے خیالات مسموم ہو چکے ہیں۔ان کو پتہ نہیں، کچی خوشی کس کو کہتے ہیں؟ بنی نوع انسان کے ساتھ تعلق میں اور غریب لوگوں کی خدمت میں کیا لذت محسوس ہوتی ہے؟ ان چیزوں سے وہ بالکل ہی نا واقف ہو چکے ہیں۔اب تو یہ حال ہے کہ بچے کوئی اچھا چا کلیٹ دیکھیں تو کوئی اچھی آئس کریم دیکھیں تو ان کو یہ پتہ ہے کہ کس طرح اچھلتا ہے؟ کس طرح شور مچانا ہے؟ اور کس طرح منہ سے رالیس پیکانی ہیں؟ اور ان کے اشتہار بھی ان کو یہی تربیت دے رہے ہیں۔پاگلوں والی حرکتیں کر رہے ہیں اور ایسے ایسے لغو قصے ان کو بتائے جارہے ہیں کہ جن سے بچوں کے ذہن اور تصور کی دنیا ہی بگڑ رہی ہے۔مثلاً اب ان کو یہ بتایا جارہا ہے کہ کس طرح دوسری دنیا کے راکٹ آرہے ہیں اور ان کے ساتھ لڑائیاں ہو رہی ہیں اور بچے ان کو فتح کر رہے ہیں۔اور اسی طرح ایسے کھلونے ان کے لئے بنادیئے گئے ہیں، ایسی کھیلیں ایجاد کر دی گئی ہیں، جن کے ذریعہ بچے منٹوں کے اندر آسمان سے ٹیلیکسیز کوختم کرتے اور ستاروں کو زمین پر مار گراتے ہیں، ستاروں کی مخلوق تباہ کر دیتے ہیں اور اپنی طرف سے ان کا دماغ بہت بلند کیا جارہا ہوتا ہے کہ دیکھو ! ہم کتنے بلند اور طاقتور ہیں؟ چنانچہ ایک امریکن نے ایک رسالہ میں اس کا ذکر کیا ہے۔میں نے خود پڑھا ہے۔اس نے لکھا ہے، میر اوہ چھوٹا سا بچہ، جو بیٹھا ہو استاروں کے ستاروں کو تباہ کر رہا ہو بلکہ ستاروں کے جھرمٹ کو کھیلوں کے ذریعہ ہلاک کر رہا ہو اور بڑی بڑی آسمانی مخلوق پر غلبہ پارہا ہو، اس بچے کو میں یہ کیسے بتاؤں کہ ذرا اپنا ناک تو صاف کرو؟ یعنی ناک سے گندگی بہہ رہی ہے اور کھیلیں یہ کھیل رہا ہے کہ وہ ساری دنیا کے بڑے بڑے ستاروں پر غلبہ پارہا ہے۔یہ محض جہالت کے قصے ہیں اور رجحانات کو تباہ کرنے والی باتیں ہیں۔یہ صرف کھیلیں ہیں، جو چیزیں بیچنے والوں نے ایجاد کی ہیں تا کہ بچے ان میں زیادہ سے زیادہ دیپی لیں۔سوائے مادی مقصد کے ان کا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ان کو کوئی پرواہ نہیں کہ قوم کے بچوں کی تربیت ہورہی ہے کہ نہیں ہو رہی ہے؟ ان میں اعلیٰ اخلاق پیدا ہور ہے ہیں کہ نہیں ہور ہے؟ صرف اقتصادی دنیا ہے، جس میں دولت کے حصول کے لئے ہر کوشش جائز ہو چکی ہے۔اسی میں بچوں سے بھی کھیلا جا رہا ہے، اسی میں جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا، ایسے رسالے نکل رہے ہیں، جو دنیا کو زیادہ گندگی کی طرف مائل کرتے جارہے ہیں اور بچوں کو بھی آلہ کار بنایا جارہا ہے۔پس ان چیزوں کے مقابل پر احمدی بچوں کو جنگ لڑنے کے لئے تیار ہونا چاہئے۔اس کے لئے نئے آلات کے ذریعہ ایسی اعلیٰ تصویریں بنائی جائیں اور ایسے اچھے کردار پیش کئے جائیں کہ ان کو دیکھ کر 677