تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 676 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 676

خطاب فرمودہ 22 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ان سارے امور پر نظر کرتے ہوئے ، میرے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ان گندی اور غلط تحریکات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمارے بڑوں کی تقریروں اور ان کا تصنیف کردہ لٹریچر کافی نہیں ہے۔بلکہ ہمیں ایک مقابل کی تحریک چلانی چاہئے ، جو بچوں کی طرف سے جاری ہو اور ہمارے بچوں میں ان چیزوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت پیدا کی جائے۔اور اس کے لئے اگر چہ بڑے پروگرام بنائیں اور مضامین لکھ کر بچوں کی مدد کریں لیکن اس میں زیادہ تر ہمارے بچے حصہ لیں۔مثلاً جب ہم بچوں کو نماز پڑھانے کا طریق بتاتے ہیں یا بچوں کو اللہ تعالیٰ کی محبت اور پیار کے قصے سناتے ہیں یا بچوں کو بتاتے ہیں کہ اس طرح پرانے زمانوں میں یا اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور میں کس طرح بچے چھوٹی عمر میں ہی خدا والے بن گئے تھے تو وہ یہ باتیں ہیں، جن کو بجائے اس کے کہ کوئی بڑا ان کو سنائے ، بچوں کے پروگرام بنائے جائیں اور ان کی وڈیوریکارڈنگ کی جائے۔اور پھر ان کو مختلف زبانوں میں ڈھال کر انگریز بچے انگریزی میں اور جرمن بچے جرمن میں اور چینی بچے چینی میں اور انڈو نیشین بچے انڈونیشین میں اپنی اپنی قوم کے بچوں کو سنبھالنے کا انتظام کریں۔اور وہ ان کو نمازیں پڑھنے کے طریق سکھائیں، نماز کے آداب بتائیں۔آنحضرت صلی اللہ وآلہ وسلم کے بلند مقام کے متعلق بچوں کو آگاہ کریں تا کہ انگلی نسل کی پوری پوری تربیت ہو اور ہمارے احمدی بچے ساری دنیا کی رہنمائی کرنے لگیں۔اس سلسلے میں سب سے پہلی ذمہ داری پاکستان کے بچوں پر عائد ہوتی ہے۔کیونکہ پاکستان میں سلسلہ کا مرکز قائم ہے اور روحانی طور پر فائدہ اٹھانے کا جتنا موقع یہاں کے بچوں کو حاصل ہے، اتنابا ہر کے بچوں کو تو میسر نہیں آسکتا۔اس لئے مجلس خدام الاحمدیہ کے شعبہ اطفال کے تحت اب ایسے پروگرام بننے چاہیئیں کہ جن کے نتیجہ میں ساری دنیا میں نئی قسم کی دلچسپیوں کے پروگرام اور طریقے رائج کئے جائیں۔کیسٹس (Cassettes) سے بھی فائدہ اٹھایا جائے۔بچوں کی معلوماتی فلموں سے بھی فائدہ اٹھایا جائے اور وڈیو ریکارڈنگ سے بھی فائدہ اٹھایا جائے۔بیچارے بچوں کو اس قدر پاگل بنایا جارہا ہے کہ اب ان کے تصورات ہی بگڑ گئے ہیں۔انسانی زندگی کے احساسات وغیرہ، جن کا میں نے پہلے ذکر کیا تھا، ان کے علاوہ میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔یعنی وہ تو محض گندگی ہے، جس کو پور نا گرافی (PORNOGRAPHY) کہتے ہیں۔بچوں کے عام خیالات بھی بگاڑے جارہے ہیں۔چھوٹی چھوٹی اور ادنی اونی چیزوں کی طرف بچوں کے میلان بڑھائے جارہے ہیں۔مثلاً بیہودہ حرکتیں ، خوشی کے لغو اظہار ، جن میں کوئی حکمت نہیں ہوتی ، کوئی معنی نہیں 676