تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 675
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 22 اکتوبر 1983ء دنیا کی گندی تحریکات کے مقابلہ کے لئے بچوں کی طرف سے تحریک چلانی چاہیے خطاب فرمودہ 22 اکتوبر 1983 ء برموقع سالانہ اجتماع مجلس اطفال الاحمدیہ مرکزیہ و" تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔دنیا میں شیطان نے اپنے دام میں انسان کو پھنسانے کے لئے مختلف قسم کے جو جال پھیلائے ہیں، وہ زندگی کے ہر شعبہ پر پھیلائے جا رہے ہیں۔ان سے صرف بڑے لوگ ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ چھوٹوں کو بھی متاثر کیا جارہا ہے۔چنانچہ اب ریڈیو کے، ٹیلیویژن کے ذریعہ اور اسی قسم کے نئے مواصلات کے ذریعہ اور کیسٹ اور وڈیو کیسٹ ریکارڈنگ کے ذریعہ بچوں کے مزاج کو بگاڑا جا رہا ہے اور انہیں نت نئی گندگیوں کی طرف مائل کیا جاتا ہے تا کہ جب وہ بڑے ہوں تو خدا کے نہ رہیں اور بلوغت تک پہنچتے پہنچتے ان کے رجحانات ہی بالکل بدل جائیں۔بچو! تم اس جگہ بیٹھے یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ دنیا میں شیطان نے کس طرح انسانی فطرت کو بگاڑنے کی زبر دست مہم شروع کر رکھی ہے اور کتنی مخرب اخلاق چیزیں ہیں، جن میں بچوں کو بھی رفتہ رفتہ ملوث کیا جارہا ہے۔ان میں سے ایک چیز ہے، جس کو (PRONO GRAPHY) پورن گرافی کہتے ہیں۔اس سے امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک اتنے متاثر ہو چکے ہیں کہ اب وہ اس کے چنگل سے آزاد ہونا بھی چاہیں تو نہیں ہو سکتے۔اور یہ ایک نہایت ہی مکر وہ خیال ہے اور ایک ایسا بھیانک تصور ہے، جو معصوم زندگیوں کو وسیع پیمانے پر تباہ و برباد کر رہا ہے۔اس کے ذریعہ معصوم بچوں کو ایسی گندگی میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جس کا بیچارے تصور بھی نہیں کر سکتے۔ابھی وہ بالغ ہوئے نہیں ہوتے لیکن بچپن ہی سے ان کو گندگیوں میں ملوث کیا جا رہا ہے۔ننگی تصویریں کھینچ کر بھی اور دوسرے ذرائع سے بھی۔یہاں تک کہ اب امریکہ میں بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے، جو انسانی جذبات سے کلیۂ محروم ہوگئی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مغربی ممالک کی ان آزاد سوسائٹیوں میں بچوں پر اتنا ظلم کیا جانے لگا ہے کہ اس کے نتیجہ میں وہ نفسیاتی مریض بن کر بڑے ہوتے ہیں۔اور ایک نہیں، دو نہیں بلکہ ایسے بچے لکھو کھا کی تعداد میں ہیں، جن کی زندگی سے انہوں نے ساری لذتیں چھین لی ہیں اور وہ بڑے ہو کر یا پاگل خانوں میں پہنچ جاتے ہیں یا ایسی زندگی بسر کرتے ہیں، جس میں لذت یابی کی خصوصیت ہی باقی نہیں رہتی۔675