تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 671 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 671

اقتباس از خطاب فرموده 21 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک بھی گئے۔ان کو نہ پوری طرح انگریزی آتی تھی، نہ اردو آتی تھی۔وہاں تو زبان یا اردو چلتی تھی یا انگریزی چلتی تھی۔لیکن اس کے باوجود بڑے ہی انہماک سے صبح سے رات تک مجلسوں میں بیٹھے رہتے تھے۔سیر پر گئے تو وہ بھی ساتھ تھے۔میں نے ان سے چند باتیں کیں۔مقامی دوستوں نے ہمیں ایک دوسرے کو اپنا مفہوم سمجھانے میں کچھ مدد دی۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے گاؤں میں ابھی تھوڑا عرصہ ہوا ہے، احمد بیت گئی ہے اور چھ احمدی ہو چکے ہیں۔اور اگر آپ آدمی بھیجیں دوبارہ تو مجھے یقین ہے کہ تھوڑی دیر میں سارا گاؤں احمدی ہو جائے گا، اللہ کے فضل سے۔چنانچہ جب میں نے جائزہ لیا کہ اب کس طرح دیہات میں تبلیغ کی جائے؟ تو یہ کمزوری سامنے آئی کہ اکثر احمدی وہاں فیمین زبان نہیں جانتے۔یعنی ساری زندگی وہاں بسر ہوتی ہے، بچپن وہاں گزرتا ہے، جوانی وہاں آتی ہے، بڑھاپے تک بھی پہنچتے ہیں اور کئی نسلوں سے یہ ہو رہا ہے لیکن فحسین کی کاویتی زبان کی طرف توجہ نہیں کی۔پہلے جب کہ انگریزی حکومت تھی اور عیسائی پادری آیا کرتے تھے، انہوں نے ان کے کلچر کا مطالعہ کیا، ان کی مختلف عادات، ان کے رہن سہن اور ان کے خیالات پر بڑی بڑی کتابیں لکھیں اور بڑی گہری تحقیق کی اور پھر ان کی زبانیں سیکھیں۔تب جا کر انہوں نے کام کیا ہے۔تو اب میں نے احمدی نوجوانون کو خصوصیت سے متوجہ کیا ہے کہ آپ نے خدمت کے عہد کر رکھے ہیں اور اب میں آپ کے چہروں پر بڑا بھاری عزم بھی دیکھ رہا ہوں۔مجھے نظر آرہا ہے کہ آپ جو کہتے ہیں، سچ کہہ رہے ہیں۔آپ کی خواہش ہے کہ اسلام کی خدمت کریں تو اس خدمت کی تیاری کی بھی تو کوشش کریں۔بغیر تیاری کے کس طرح خدمت ہو جائے گی؟ اس لئے آپ اپنے بچوں کو شروع سے ہی اس نیت کے ساتھ نجی سکولوں میں داخل کرنا شروع کریں کہ وہ نجی زبان سیکھیں اور اس زبان کو صرف سیکھیں ہی نہیں بلکہ ان کے ساتھ تعلقات استوار کریں۔بچپن سے ان کے خاندانوں میں داخل ہوں ، ان سے میل جول رکھیں ، ان کے دیہات میں پھر جانا شروع کریں، جو بڑے ہیں، وہ بھی سیکھنا شروع کریں۔چنانچہ اس کا انتظام کیا گیا ہے۔وہاں ہمارے ایک سے زائد مشن ہاؤسز ہیں۔مساجد اور مشن کی عمارتیں ہیں، وہاں با قاعدہ کلاس لگا کرے گی۔خدام کے لئے ، بڑوں کے لئے اور جہاں تک ممکن ہو، عورتیں بھی سیکھیں گی اور بچوں کو فنی سکولوں میں داخل کیا جائے گا۔اور یہ بھی پتہ لگا کہ ایک احمدی بچی ہے، جو اتفاق سے نجی سکول میں داخل کی گئی۔اصل میں اس کے والد بڑے مخلص اور فدائی احمدی ہیں اور تبلیغ کا بڑا جوش ہے۔چنانچہ ان کو یہ خیال آیا کہ میں اپنی بچی کو چین پڑھاؤں تا کہ نبی قوم کے ساتھ رابطہ بھی قائم ہو جائے اور پھر تبلیغی کام ، ترجموں کے۔671