تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 670 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 670

اقتباس از خطاب فرموده 21 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک حالات کا جائزہ لیا، نفی قوم کا گہری نظر کے ساتھ مطالعہ کیا اور بعض فجینز سے ملاقاتیں کیں تو معلوم ہوا کہ یہ قوم اللہ کے فضل سے قبول اسلام کے لئے بالکل تیار بیٹھی ہے۔پس معمولی سی کوشش کی ضرورت ہے۔شفا بخشنے والا تو اللہ ہے، انسان تو کسی مبروص کو شفا نہیں دے سکتا۔دم مسیح تو خوامخواہ مشہور ہے، اصل تو میرے اللہ کی برکت تھی ، جس دم میں بھی آجائے ، وہ دم مسیح بن جایا کرتا ہے۔اس لئے ہم کمزوروں کے ہاتھوں اگر خدا نے یہ شفا مقدر فرمائی ہے تو یہ اس کا احسان ہے۔اور مجھے یقین ہے کہ ضرور شفا عطا فرمائے گا کیونکہ یہ رؤیا اس کے بغیر دکھائی نہیں جاسکتی تھی۔چنانچہ اس واقعہ کے دوسرے یا تیسرے دن ہم ایک ایسے جزیرے میں بھی پہنچے، جس کا نام VANUALEVU (وبنوالیوہ) ہے۔لیکن اس کے صدر مقام کا نام لمبا سا ہے۔وہاں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شیدائی کافی تعداد میں موجود ہیں۔وہاں جب ان سے ملاقاتیں ہوئیں تو انہوں نے شام کو ایک پروگرام رکھا ہوا تھا، جس میں بعض نجیز ، جو اس علاقہ کے معززین شمار ہوتے تھے، ان کو بھی مدعو کیا ہوا تھا۔اور پروگرام تو یہ تھا کہ صرف سرسری ملاقات ہوگی، چند باتیں ہوں گی ، ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے کے بعد پھر ہمارا جماعت کا پروگرام شروع ہو جائے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے وہاں بھی غیر معمولی طور پر خودہی یہ انتظام فرما دیا کہ تبلیغی گفتگو چل پڑی۔ایک ہندو دوست بھی آئے ہوئے تھے، انہوں نے ایک سوال چھیڑ دیا۔پھر سوال کے بعد ایک اور سوال ، پھر اور سوال۔اس طرح وہاں اچھی خاصی لمبی مجلس لگ گئی اور جو نہین دوست تھے، وہ عیسائی ہیں۔لیکن تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے گہری دلچسپی لینی شروع کر دی۔اور یہ دیکھ کر مجھے تعجب ہوا کہ باوجود اس کے کہ ایک چھوٹی سی مجلس لگی ہے، ایک دم تو انسان کے خیالات نہیں بدلا کرتے۔لیکن ان میں، میں نے یہ حوصلہ بھی دیکھا، یہ ذہانت دیکھی ، یہ دل کی سچائی دیکھی کہ جب بات میں ان کو سمجھاتا تھا تو وہ تسلیم کرتے تھے۔ساتھ کہتے تھے ہاں، یہ ٹھیک ہے۔اور جتنے مسائل بھی ہوئے ہیں، ایک کے متعلق بھی اختلاف پیدا نہیں ہوا۔یہاں تک کہ جو ہندو دوست شامل تھے، انہوں نے بھی تائید شروع کر دی۔اور بعد میں انہوں نے کہا کہ آج جو مجلس لگی ہے، اس کی ساری باتوں سے ہمیں اتفاق ہے۔چنانچہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا اور اس نے اس رویا میں جو خوشخبری دی تھی، ساتھ ہی اس کو پورا ہوتے دیکھنے کی بھی توفیق عطا فرمائی۔اور یہ سمجھا دیا کہ ان کی بیماریاں صرف سطحی ہیں، اگر ذرا بھی توجہ دی جائے گی تو انشاء اللہ تعالیٰ یہ لوگ شفا پا جائیں گے۔علاوہ ازیں اور بھی کئی جگہ نمین سے رابطہ پیدا ہوا۔ہم نے ہر موقع پر ان کو اچھا دیکھا ، جلدی متاثر ہوتے ہوئے دیکھا۔چنانچہ ایک مہین احمدی وہاں تشریف لائے ہوئے تھے ، ہمارے ساتھ ایک دن سیر پر 670