تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 663 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 663

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 21 اکتوبر 1983ء جب ہم آسٹر یلیا پہنچے تو نفی کے ایک نوجوان ، جن کی معمولی اقتصادی حالت تھی اور انہیں اتنی توفیق نہیں تھی کہ وہ کرایوں میں اتنی رقمیں خرچ کریں، وہ ہمارے پیچھے پیچھے آسٹریلیا پہنچ گئے۔جب پوچھا کہ آپ کس طرح آئے؟ تو انہوں نے کہا کہ میرا دل اس قدر بے قرار ہو گیا تھا کہ برداشت نہیں ہو رہا تھا۔اس لئے میں نے سوچا کہ خواہ کچھ بھی ہو ، آسٹریلیا پہنچ جاؤں۔اس طرح کچھ اور ساتھ رہنے کا موقع مل جائے گا۔وہاں وہ مکمل طور پر نہ صرف ساتھ رہے بلکہ خدمت کا اس قدر شوق تھا کہ مقامی خدام سے بھی منت کر کے اور مانگ کر وقت لے لیا تھا اور پھر دوبارہ والنٹیئر زمیں شامل ہو گئے۔اور وہاں انہوں نے بڑی حکمت اور محبت سے دن رات جماعت کی خدمت کی۔پس یہ وہ کیفیات ہیں، جن کا بیان کرنا بھی ممکن نہیں اور ان کا شکر ادا کرنا بھی ناممکن ہے۔میں یہ باتیں آپ کو اس لئے بتا رہا ہوں کہ آپ بھی خاص طور پر اپنے دلوں کو ٹولیں اور توجہ کریں۔خدمت دین کے لئے نئی نئی تو میں آگے بڑھنے کو تیار ہو رہی ہیں اور بڑا بلند اور پختہ عزم رکھتی ہیں۔اب آپ کا ان سے مقابلہ ہونا ہے۔اس لئے باوجود اس کے کہ جماعت احمدیہ پاکستان خدا کے فضل سے بڑی مخلص ہے اور اخلاص میں مزید ترقی کر رہی ہے۔میرا یہ فرض ہے کہ میں آپ کو بر وقت متنبہ کردوں کہ آپ لاعلمی میں نہ بیٹھے رہیں کہ بعض دور کی جماعتوں سے آپ کا مقابلہ ہے، جن کی تربیت نہیں ہے۔اچھی تربیت نہ ہونے کے باوجود اب وہ اس بات کے لئے تیار کھڑی ہیں کہ پورے زور سے آپ کے ساتھ دوڑیں اور فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ کی دوڑ میں حصہ لیں اور ساتھ ہی دعاؤں کی طرف بھی توجہ کریں۔کیونکہ اس عظیم الشان کام کے لئے ، جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپر دفرمایا ہے، دعاؤں کی بے انتہا ضرورت ہے۔یہ تو طویل داستان ہے۔میں نے سوچا ہے کہ باقی حصہ انشاء اللہ تعالیٰ اجتماع پر بیان کروں گا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا، نجی کی باتیں بھی ایک آدھ گھنٹہ میں بیان کرنی ناممکن ہیں۔آج انشاء الله اجتماع ہوگا، نمازیں جمع ہوں گی اور اس کے بعد ہم ساڑھے تین بجے مقام اجتماع میں اکٹھے ہوں گے۔نجی کے مضمون کا بقیہ دوسرا حصہ میں وہاں بیان کروں گا۔اس وقت تو میں صرف دعا کی تحریک کرنا چاہتا ہوں۔دعاؤں کی شدید ضرورت ہے۔کیونکہ جیسا کہ ہمارے سفر کے ایک ساتھی چوہدری انور حسین صاحب نے واپس آکر تبصرہ کیا، بالکل وہی کیفیت میں اپنے دل کی پاتا ہوں۔انہوں نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ہم ذمہ داریوں کے پہاڑ لے کر واپس لوٹے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ایک ایک ملک میں جو خدمت کے نئے مواقع میسر آئے ہیں، وہ بہت 663