تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 664 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 664

خطبہ جمعہ فرمودہ 21اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد ششم وسیع ہیں اور ذمہ داریاں بہت بوجھل محسوس ہوتی ہیں۔اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ اس چھوٹے سے سفر سے ہم ذمہ داریوں کے پہاڑ سمیٹ کر واپس آئے ہیں۔پہاڑ کا بوجھ اٹھانا تو ہمارے بس کا کام نہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے، جو فضل فرمائے اور ہمیں ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔پس خاص طور پر یہ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ بیرونی احباب جماعت کے اخلاص کو بھی بڑھائے اور ہمیں بھی کسی صورت میں ان سے پیچھے نہ رہنے دے۔ان کے اخلاص کو بھی دوام بخشے اور ہمارے اخلاص کو بھی دوام بخشے۔باہر والے احمدیوں کا بھی ہر قدم ترقی کی طرف جاری رہے اور ہمارا ہر قدم بھی ہمیشہ ترقی کی طرف جاری رہے۔اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل کا سلوک فرماتے ہوئے ، ہماری کمزوریوں سے پردہ پوشی فرمائے ، ہماری غفلتوں سے درگزر فرمائے اور ہماری طاقتوں کو بڑھاتا چلا جائے۔اور اپنے فضلوں کو اس کے مقابل پر اتنا زیادہ بڑھا دے کہ ہماری کوشش کا نتیجہ میں کچھ بھی دخل نظر نہ آئے بلکہ یوں محسوس ہو کہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، جو پورا ہوتا نظر آ رہا ہے۔دعا کا یہ حصہ خاص طور پر قابل توجہ ہے۔اس لئے میں اس مضمون کو ذرا سا کھول کر بیان کرنا چاہتا ہوں۔انسان کی کوششیں جتنی بھی بڑھ جائیں، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے سوا ان کو پھل نہیں لگ سکتے۔اور جہاں تک خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کا تعلق ہے، وہاں یہ حقیقت اور بھی زیادہ قطعی طور پر ہمارے سامنے آتی ہے۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کی کوششوں میں تو کوشش اور پھل میں ایک نسبت ہوتی ہے۔مگر دین کی خدمت میں اگر آپ بنظر غائر دیکھیں تو حقیقتا کوئی بھی نسبت نظر نہیں آتی۔اس لئے کوششوں پر انحصار کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ہاں یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالٰی ہماری استطاعت کے مطابق ہمیں کوششوں کی ضرور تو فیق عطا فرمائے۔تا کہ ہمارے دل بھی راضی ہوں کہ ہم نے خدا کی خاطر کچھ کیا ہے اور جتنی توفیق تھی اتنا ضرور کر دیا ہے۔لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ اگر خدا تعالیٰ صرف ہماری کوششوں کا ہی پھل عطا کرے گا تو ہم دنیا میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔اور خواہ ان کوششوں کو کتنی ہی وسعت مل چکی ہو، کام اتنے عظیم الشان اور اتنے وسیع ہیں اور بظاہر ایسے ناممکن نظر آتے ہیں کہ آپ میں سے ہر بچہ، ہر مرد اور ہر عورت اپنا سب کچھ خدا کی راہ میں جھونک دے ، تب بھی وہ انقلاء نہیں، جو ہم بر پا کرنا چاہتے ہیں۔اس لئے اللہ کا فضل ہی ہے، جو سب کچھ کرے گا۔پس یہ دعا کریں کہ اے خدا! تو ہمیں تسکین قلب کی خاطر توفیق عطا فرما کہ ہم سب کچھ تیری راہ میں ڈال دیں لیکن جو نتیجہ پیدا فرما، وہ اپنے فضل کا نتیجہ پیدا فرما۔گویا ہماری کوششوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔جو کچھ ملے، خالصہ تیری رحمت اور تیرے فضل کے نتیجہ میں ملے۔664