تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 662 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 662

خطبہ جمعہ فرمودہ 21اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ششم متعلقہ حصہ یہ ہے کہ جب انصار نہیں بولے اور پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار پوچھا کہ مجھے مشورہ دو تو تب انصار کے ایک نمائندہ نے کہا: یا رسول اللہ ! شاید آپ کی مراد یہ ہے کہ جب آپ ابتدا میں تشریف لائے تو اس وقت ہم نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ مدینہ کے اندر تو ہم آپ کے ساتھ لڑیں گے لیکن مدینہ سے باہر نکل کر نہیں لڑیں گے۔شاید اس معاہدہ کی طرف حضور کی توجہ منتقل ہو رہی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس وقت تک ہم آپ کی ذات اور مرتبہ کو پہچانتے ہی نہ تھے، اس وقت ہم اسلام سے ناواقف تھے۔اب تو ہماری کیفیت یہ ہے کہ ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے، آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے ، آپ کے دائیں بھی لڑیں گے، آپ کے بائیں بھی لڑیں گے اور ممکن نہیں کہ کوئی ہاتھ ، کوئی وجود، کوئی جسم آپ تک پہنچ سکے، جب تک وہ ہماری لاشوں کی روندتا ہوا نہ آئے۔یہ ایک بہت ہی عظیم الشان واقعہ ہے۔اور ایسا پیارا جواب ہے کہ تاریخ عالم میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اسی نوعیت کے چھوٹے چھوٹے واقعات ان عظیم واقعات کی برکت سے پیدا ہور ہے ہیں۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بچے غلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تعارف جب پوری شان کے ساتھ کسی قوم کے ساتھ ہو تو پھر ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔پس وہ لوگ بھی جب یہ بیان کر رہے تھے تو وہ میری نظر میں ایسا ہی مقام رکھتے تھے کہ جن پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حیثیت اور مرتبہ پوری طرح روشن نہ تھا، احمدی ہونے کے باوجود بھی مقام مسیحیت ان پر پوری طرح روشن نہیں تھا اور وہ احمدیت کی روح کو اچھی طرح نہیں سمجھتے تھے۔چنانچہ جب ان پر یہ روشن ہوا تو یہ قربانی کا جذبہ ایک طبعی امر اور قدرتی چیز تھی ، جس نے ظاہر ہونا ہی ہونا تھا۔ایک قانون تھا، جسے کوئی بدل نہیں سکتا۔پس سب سے بڑا پھل، جو لے کر ہم لوٹے ہیں، جس سے دل کناروں تک اللہ تعالیٰ سے راضی ہے، وہ یہی ہے کہ جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک حیرت انگیز نمایاں، پاک اور عظیم الشان انقلابی تبدیلی واقع ہورہی ہے۔اور وہاں کے نوجوان، بوڑھے اور بچے خدمت دین کے جذبہ سے اس قدر سرشار ہوئے کہ انہیں دیکھنے سے ایمان تازہ ہونے لگا۔چنانچہ جب ہم سفر سے روانہ ہوئے تو اس وقت جو ان کے دلوں کی کیفیت تھی ، حقیقت ہے کہ وہ الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتی۔اخلاص کا ایک عجیب سمند ر تھا اور ان کی آنکھیں یہ پیغام دے رہی تھیں کہ ہم ہر وہ بات یاد رکھیں گے، جو آپ نے ہمیں کہی۔ہم اپنے تصور میں بھی یادرکھیں گے، اپنے دل میں بھی یادرکھیں گے، اپنے عمل میں بھی یادرکھیں گے اور انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ ہم سے اچھی خبریں آئیں گی۔662