تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 56

مکتوب محر ر ہ 21 ستمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم بے قرار ضدی سی تمنا ہے، جو ہر دم بے چین رکھتی ہے۔اللہ تعالی محض اپنے فضل سے یہ سب تقاضے پورے کرنے کی توفیق بخشے۔اور ایسے ہی اور بہت سے تقاضے پورے کرنے کی بھی، جو دنیا کے گوشے گوشے میں خدمت اسلام کی طرف بلا رہے ہیں اور روز بروز اپنی شدت اور وسعت میں بڑھتے چلے جارہے ہیں۔جب فرصت کے چند لمحے نصیب ہوتے ہیں تو کاموں کے ہجوم کی بجائے ہر طرف پھیلی ہوئی ضروریات کے فکروں کے ہجوم آگھیرتے ہیں اور دل کو ایک طلسم پیچ و تاب میں بدل دیتے ہیں۔تب بڑے درد و کرب سے اپنے مولیٰ کے حضور دل سے یہ دعا اٹھتی ہے کہ بات نہیں۔رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے ! بس دعا ہی کا ایک سہارا ہے، ورنہ مہمات دینیہ کا بوجھ اٹھانا، کسی بندے یا جماعت کے بس کی خود کنی و خود کنانی کار ما ! عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ إِلَيْهِ أُنِيْبُ ان باتوں کے علاوہ کچھ ان خطوں کا بھی فکر رہتا ہے، جو احباب جماعت اور عزیزان کس کس محبت اور چاہت سے دعاؤں میں بسا کر لکھتے ہیں۔پڑھنے کا وقت تو سفر کے دوران نکال ہی لیتا ہوں، جواب دینے کا وقت نہیں پاتا تو طبیعت ملول ہو جاتی ہے۔دل چاہتا ہے کہ ہر ایک کو اپنے ہاتھ سے خط لکھوں۔محبت کا جواب محبت سے اور دعاؤں کا جواب دعاؤں سے دوں۔هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ کا مضمون یاد آتا اور ستاتا ہے لیکن کچھ پیش نہیں جاتی۔تب لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کی آیت لوریاں دیتی اور بڑی شفقت سے تھی پکاتی اور سہلاتی ہے۔بیک وقت دور نیاؤں میں بس رہا ہوں۔ایک مصروفیات کی بیرونی دنیا ہے اور ایک کیفیات کی اندورنی دنیا۔والسلام خاکسپار مرزا طاہر احمد مطبوعه روزنامه الفضل 103 اکتوبر 1982ء) 56