تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 645
تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 اکتوبر 1983ء ہیں۔خیر اسی طرح ایک جھوٹ تو پکڑا گیا۔جب انہوں نے سوال مکمل کیا تو میں نے مسکراتے ہوئے تسلی سے ان سے کہا کہ مولوی صاحب! آپ کے سوال کا آخری حصہ یہ ہے اور پہلا حصہ یہ ہے۔جواب تو آپ خود ہی دے چکے ہیں۔اس پر وہ پہلے حصہ سے مکر گئے کہ میں نے تو یہ کہا ہی نہیں تھا۔میں نے کہا : بہت اچھا یہ حسن اتفاق ہے کہ کیسٹ ریکارڈنگ ہو رہی ہے اور وڈیوریکارڈنگ بھی ہو رہی ہے۔اگر آپ فرمائیں تو آپ کو یہ حصہ سنادیں تو اسی وقت گھبرا کر پیچھا چھڑانے لگے کہ نہیں ، کوئی ضرورت نہیں ، میں نے کہا ہو گا لیکن اب میں ایک اور سوال کرتا ہوں۔جب دوسراسوال شروع کیا تو میں نے قرآن کریم اور حدیث سے جواب دینا شروع کیا تو پریشان ہو گئے کہ نہیں، آپ کون ہوتے ہیں، قرآن کریم کی تشریح کرنے والے؟ میں نے کہا: مولوی صاحب ! عقل کی بات کریں۔آپ نے خود ہی مذہب کے بارے میں سوال کیا ہے اور آپ نے خود ہی یہ کہا ہے کہ میں آپ کے سوال کا قرآن کریم کے ذریعہ جواب دے کر آپ کو مطمئن کروں۔اس لئے میں تو قرآن سے جواب دوں گا۔بولے نہیں قرآن تو ہمارا ہے۔گویا ان کی Monoply اجارہ داری ہے۔میں نے کہا: آپ نے سوال کیا ہے اور قرآن سے جواب مانگا ہے۔اس لئے اب آپ کو اس کا جواب سننا پڑے گا۔کیونکہ سائل کا پھر یہ حق نہیں ہے کہ وہ دخل اندازیاں کرے۔کم از کم اسلامی شرافت تو سیکھیں۔یہاں آئے ہیں تو اسلامی تہذیب کے اندرر ہیں۔یہاں ہندو بھی بیٹھے ہیں اور عیسائی بھی، مجیز بھی ہیں اور ایشیز بھی ، آپ جوحرکتیں کر رہے ہیں، ان کو دیکھ کر لوگ کیا سمجھیں گے؟ آپ ان پر کیا اثر ڈالیں گے؟ آپ کو تہذیب کے دائرہ کے اندر رہنا پڑے گا۔میں نے کہا: آپ باقی لوگوں کو دیکھیں، وہ سوال کرتے ہیں، پھر ان کو جواب سننے کا حوصلہ بھی ہوتا ہے۔خیر تھوڑی دیر جب جواب سنا تو ان کو یہ خطرہ پیدا ہوا یہ بالکل بجا تھا کہ دوسرے مسلمان جو سن رہے ہیں اور جن کے وہ پیر بن کر آئے تھے، وہ تو تائید میں سر ہلانے لگ گئے ہیں۔تب انہوں نے سوچا کہ اب میں کیا کروں؟ چنانچہ آدھے سوال سے ذرا از ائد جواب ہوا تھا کہ گھبرا کر اٹھے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مجلس چھوڑ کر بھاگ گئے۔لیکن اکثر وہاں بیٹھے رہے ، ان کے ساتھ گنتی کے چند آدمی گئے۔وہ مخالف خاتون ، جن کا میں نے ذکر کیا ہے، وہ بھی بیٹھی رہیں۔چنانچہ انہوں نے پھر دوبارہ مجھ سے وقت لیا۔کہنے لگیں، میں تو کچھ اور سمجھا کرتی تھی۔احمدیت تو بالکل اور چیز ہے۔مجھے تھوڑا سا وقت دیں۔جب وہ ملنے کے لئے آئیں تو انہوں نے اعتراض دہرانے شروع کر دیئے ، جو آپ نے اکثر سنے ہوئے ہیں۔مثلا محمدی بیگم کا اور اس قسم کے دوسرے اعتراضات۔645