تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 644
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ششم ہیں تو تمہیں منہ چھپانا پڑے گا۔اندھیرے کے لئے روشن دانوں پر پردے ڈالے جاتے ہیں ، گرمیوں میں سورج کی تمازت سے بچنا چاہیں تو ہزار کوشش کی جاتی ہے کہ کسی طرح روشنی اندر داخل نہ ہو۔پس لوگ ڈرتے ہیں، سورج تو اندھیرے سے کبھی نہیں ڈرا۔پس یہی کیفیت ہم نے وہاں دیکھی۔میں بڑی بے تکلفی کے ساتھ مگر اس کامل یقین کے ساتھ ان کے سوالات کا جواب دیتا تھا اور سمجھتا تھا کہ دیکھتے دیکھتے کھل جائے گی۔اس لئے میں ان سے کہتا تھا۔جس کسی نے جو بھی سوال کرنا ہے، کرے۔بے شک تلخ سے تلخ سوال بھی کیوں نہ ہو؟ میں اس کا جواب دوں گا۔چنانچہ تھوڑے عرصہ کے اندر جو سوال ہوئے ، ان میں خدا تعالی کے فضل سے سوالات کرنے والوں نے خود ہی اطمینان کا اظہار شروع کر دیا۔ایک طرف سوال کرتے تھے اور دوسری طرف تھوڑی دیر کے بعد کہہ دیتے تھے کہ ہاں بالکل ٹھیک ہے، ہماری تسلی ہوگئی۔سر ہلانے لگ جاتے تھے، کہنے لگ جاتے تھے۔چنانچہ وہاں ایک محبین پادری صاحب بھی آئے ہوئے تھے۔ان کی کیا پوزیشن ہے؟ مجھے یاد نہیں۔ان کا ایک چرچ سے تعلق ہے اور شاید وہاں کے کسی تعلیمی ادارے کے لیکچرار بھی تھے۔بہر حال ان کی اچھی پوزیش تھی۔نجی قوم سے تعلق رکھتے تھے۔انہوں نے ایک سوال کیا، اس کے بعد ان کے چہرے پر بشاشت آئی۔پھر انہوں نے ایک اور سوال کیا اور اس کے بعد کھڑے ہو کر شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ ہاں ہماری تسلی ہوگئی۔نہ صرف بعد میں احمدیوں سے ملے اور درخواست کی کہ میں تو لمبی ملاقات چاہتا ہوں۔اب تو میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں نے ملنا ہے اور مزید باتیں کرنی ہیں۔لیکن چونکہ وقت بہت ہی تھوڑا تھا، پہلے سے پروگرام طے شدہ تھے، اس لئے مصروفیت کی وجہ سے میں ان کو وقت نہیں دے سکا۔اب انشاء اللہ میرا ارادہ ہے کہ خط و کتابت کے ذریعہ ان سے رابطہ قائم رکھوں۔پس جب یہ اثر دیکھا تو ایک مولوی صاحب، جو اپنی ٹیم کے ساتھ تشریف لائے ہوئے تھے، وہ بڑے پریشان ہوئے اور انہوں نے پھر سوال و جواب کا معاملہ اپنے ہاتھ میں سنبھال لیا۔انہوں نے ایک سوال کیا، میں نے جب اس کا جواب دیا تو اس سوال کے پہلے حصہ سے مکر گئے۔خدا تعالیٰ نے ان کی ایسی عقل ماری کہ ان کے سوال کرنے کا پہلا حصہ خود ہی دوسرے حصہ کی نفی کر رہا تھا۔جب وہ بڑے لہک لہک کر سوال کرنے لگے اور انہوں نے خوب اردو بولی تو چونکہ وہاں اکثر مجالس انگریزی میں ہوتی تھیں مگر وہ کہتے تھے، مجھے انگریزی نہیں آتی۔پہلے تو یہ جھوٹ بولا کہ مجھے اردو بھی نہیں آتی اور بعد میں جب مجبور ہو گئے تو اردو بولی اور اتنی فصیح و بلیغ کہ سارے حاضرین حیران رہ گئے کہ مذہبی آدمی اور اتنا جھوٹا۔کسی سے کہلوایا کہ اردو کا ایک لفظ بھی مجھے نہیں آتا اور بعد میں پتہ لگا کہ وہ اچھے بھلے یوپی کی اردو بولنے والے 644