تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 621
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرموده 10 اکتوبر 1983ء خدا کی محبت میں اور اسلام کی تبلیغ میں دیوانے بن جائیں خطاب فرمودہ 10 اکتوبر 1983ء حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے دورہ مشرق بعید کے دوران سری لنکا کی ایک جماعت نگمو سے حسب ذیل خطاب فرمایا:۔تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا حسان ہے کہ اس نے آج مجھے اور میرے ساتھیوں کو نکمبو میں آنے کی توفیق عطا فرمائی۔جماعت احمد یہ نکمو کے متعلق ہم نے بہت پہلے سے سن رکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے سلیون میں یہ سب سے زیادہ مستعد اور قربانی کرنے والی جماعت ہے۔لیکن میں نے یہاں آکر دیکھا کہ کولمبو کی میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اخلاص پایا جاتا ہے۔اور وہاں کے خدام بھی اور انصار بھی بنیادی طور پر بہت اچھے احمدی ہیں۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ شہر کے فاصلے زیادہ ہونے کی وجہ سے اور اچھا مرکز نہ ہونے کی وجہ سے ان میں تنظیم اور تربیت کی کمی ہے۔آپ لوگ چونکہ چھوٹی جگہ پر رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کی اقتصادی حالت بھی عموماً اچھی معلوم ہوتی ہے۔پھر ایک دوسرے سے ملنے اور بھائی چارہ کا موقع بھی زیادہ ملتا ہے، اس لئے آپ کے چہروں پر زیادہ بشاشت نظر آ رہی ہے۔دو دن پہلے جب آپ کی مستورات بھی کولبوگئیں تو میری اہلیہ اور میری بچیوں نے بھی مجھے یہی بات بتائی کہ نگمو کی عورتوں میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی محبت اور اخلاص پایا جاتا ہے۔اور ان سب کے چہروں سے احمدیت کی محبت ٹپکتی ہے۔تعداد کے لحاظ سے آپ کولمبو کے احمدیوں سے کچھ زیادہ لگتے ہیں۔کیونکہ چندہ دہندگان کے جو اعداد و شمار ہمارے سامنے آئے ہیں، ان سے پتہ لگتا ہے کہ آپ ان سے زیادہ نہیں تو برا بر ضرور ہیں۔ہو سکتا ہے کہ وہاں تعداد زیادہ ہو لیکن چندہ دہندگان کم ہیں۔اس کی تحقیق میں نے ابھی نہیں کروائی۔مگر جواسٹیں (lists) پیش ہوئی ہیں، ان سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگ تعداد میں کچھ زیادہ ہی ہیں۔اب کولہو اور نگمو کی دونوں جماعتوں کا مقابلہ ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ کون جلدی پھیلتا ہے؟ اور کون زیادہ تیزی کے ساتھ اپنی جماعت کو اس قابل بناتا ہے کہ سری لنکا میں احمدیت کا مرکز کو لبو کی بجائے نگمبوبن جائے یا نگمو کی بجائے کولمبوہی مرکز بنا ر ہے؟ 621