تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 616
خطاب فرمودہ 105اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم 12۔اسلام انسان ، انسان کے درمیان مساوات کا علمبردار ہے۔اس میں ذات پات نسل اور قوم کی کوئی تمیز نہیں ہے۔بلکہ سب انسانوں کو بلحاظ انسانیت یکساں قرار دیتا ہے۔پھر اسلام عزت اور اکرام کے ماپنے کا ایک نیا پیمانہ پیش کرتا ہے۔جیسا کہ فرمایا:۔إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَيكُمْ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْ مِنْ (الحجرات :14) فَأُولَبِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابِ (المؤمن : 41) 13۔اسلام گناہ اور نیکی کی ایسی تعریف کرتا ہے، جو اسے دیگر تمام مذاہب سے ممتاز کرتی ہے۔انسان کی فطری خواہشات کو یہ بدی قرار نہیں دیتا بلکہ ان کے بے محل استعمال کا نام بدی رکھتا ہے۔اور تمام طبعی تقاضوں کی تعدیل اور تربیت کرتے ہوئے ان کی مناسب نشو نما کی تعلیم دیتا ہے۔14۔اسلام ایک منفرد مذ ہب ہے، جس نے ورثہ میں ہی عورت کے حقوق کو قائم نہیں کیا بلکہ مرد اور عورت کے درمیان مساوات کا قیام کرنے کے باوجود مساوات پر ایسا غلط زور نہیں دیا کہ جو مرد اور عورت کے تخلیقی فرق کو نظر انداز کر دے۔آخر پر میں ان تمام افراد اور قوموں کو جو امن کے خواہاں ہیں، یہ عظیم خوش خبری دیتا ہوں کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے، جو آج انفرادی، معاشرتی، تمدنی، اقتصادی، قومی، بین الاقوامی امن کی ضمانت دیتا ہے۔اس کی امن کی تعلیم ان شعبہ ہائے زندگی پر حاوی ہے۔اسلام ہی وہ منفر د مذہب ہے، جس کا نام امن ہے۔اور جس سے منسلک ہونے والا مسلم کہلاتا ہے۔یعنی خود امن میں آنے والا ، غیروں کو امن دینے والا اور ہر اس فعل سے پر ہیز کرنے والا، جو فساد پیدا کرنے والا ہو۔اسلام کا رسول بھی اول المسلمین کہلایا۔یعنی سب امن کا پیام دینے والوں کا سردار۔آپ نے فرمایا:۔مسلم وہی ہے، جس کے قول و فعل کے شر سے ہر امن پسند محفوظ رہے۔حج الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری خطاب قیام امن کے موضوع پر ایک لافانی چارٹر ہے۔جو ہر قوم و نسل اور مذہب وملت کے لئے آج بھی یکساں واجب العمل ہے۔616