تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 615
تحریک جدید - ایک الہی تحریک پھر فرمایا:۔خطاب فرموده 05 اکتوبر 1983ء اِنَّ هُذَا لَفِي الصُّحُفِ الأولى صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى ® لى (الاعلی :20:19) 7- اسلام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ جو الہامی کتاب اس مذہب کو پیش کرتی ہے، اس کی زبان (عربی) زندہ ہے۔اور زبان کی زندگی، کتاب کی زندگی پر دلالت ہے۔پس باقی ماندہ تمام الہامی زبانوں کا مردہ ہو جانا اور قرآن کی زبان کا رہنا، اس کی عظیم الشان خصوصیت ہے۔-8 اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کی نہ صرف تعلیمات اعلیٰ و جامع ہیں بلکہ اس کا رسول انسانی زندگی کے ہر قسم کے دور سے گزرا اور یتیمی سے لے کر شہنشاہی تک اس کی تاریخی زندگی ہر قدم اور ہر موڑ پر درخشندہ مثالیں قائم کرتی چلی جاتی ہے۔ایسا کامل اور قابل اتباع نمونہ، جو اپنی وسعت اور تنوع میں ہمہ گیر ہو، صرف اسلام کا رسول ہی پیش کرتا ہے۔جس کی زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح ہمارے سامنے ہے اور زندگی کا کوئی گوشہ مخفی نہیں بلکہ تمام تفصیلات محفوظ ہیں۔اور ایک کامل نمونہ کے لئے ایسا ہونا ضروری تھا۔اس کے مقابل پر باقی انبیاء کو انسانی زندگی اور مسائل کے ایسے وسیع تجارب حاصل ہوئے ، نہ ہی ان کی سوانح حیات مکمل طور پر محفوظ ہیں اور زندگی کا اکثر حصہ نظروں سے اوجھل ہے۔9۔اسلام کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں بے شمار پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں، جو ہر زمانہ میں پوری ہو کر لوگوں کو اسلام کی سچائی اور زندہ خدا کی ہستی پر یقین پیدا کرتی رہی ہیں اور کرتی رہیں گی۔کوئی زمانہ ایسا نہیں ، جس میں کوئی نہ کوئی پیشگوئی پوری نہ ہوئی ہو۔اور یہ زمانہ تو اس بارہ اپنی مثال آپ ہے۔مثلاً حضرت موسیٰ کے زمانہ کے فرعون کی لاش کا دستیاب ہونا، ایسے عذاب کی خبر ، جس میں ذروں میں بند آگ انسان کو ہلاک کرنے کے لئے تیار کی جائے گی، جو پھٹنے سے پہلے کھینچ کر لیے اور عمودی ہو جائیں گے۔10۔اسلام کا یہ بھی ایک نمایاں امتیاز ہے کہ جب حیات بعد الموت کی خبریں دیتا ہے تو ساتھ ہی اس دنیا سے تعلق رکھنے والی بعض پیشگوئیاں بھی کرتا ہے، جو پوری ہو کر حیات آخرت والی پیش خبروں پر بھی یقین پیدا کر دیتی ہے۔11۔اسلام عدل وانصاف کی انفرادی، قومی اور بین الاقوامی تعلیم دینے کے لحاظ سے تمام دوسرے مذاہب سے ممتاز ہے۔یہ تعلیم ایسی جامع ہے کہ تعلقات کے ہر امکانی دائرہ پر ہاوی ہے۔بڑوں، چھوٹوں ، آجر اور مزدور ، دوست اور دشمن، افراد اور قوموں کے حقوق اور فرائض پر حیرت انگیز رہنمائی کرتی ہے۔جو دائگی ، غیر مبدل اصولوں پر مبنی ہے۔615