تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 609 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 609

تحریک جدید - ایک اپنی تحریک۔۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 105اکتوبر 1983ء 16۔ایک طاقتور اور مضبوط حکومت کو یہ ہدایت ہے کہ وہ دوسرے ممالک پر طمع کی نظر نہ رکھے اور صرف دفاعی جنگ کرنے کی اجازت ہے۔(132) اب اسلام کی یہ تعلیم کیسی جامع اور ہر پہلو سے مکمل تعلیم ہے۔اگر اسلام کسی ایک نظام کے رائج کرنے کا حکم دیتا تو یہ اعتراض پڑ سکتا تھا کہ جہاں یہ نظام ممکن ہی نہیں، وہاں کیسے رائج کیا جائے؟ کیونکہ مختلف قوموں اور ملکوں میں معاشی و معاشرتی ارتقاء کی رفتار کے مطابق آج کی ترقی یافتہ دنیا میں بھی مختلف قومیں اور تہذیبیں آباد ہیں اور آج کا انسان بظاہر ایک زمانہ میں رہتے ہوئے عملاً مختلف زمانوں میں بس رہا ہے۔کیا افریقہ کی بعض غیر متمدن قومیں یا آسٹریلیا کے PIGMY اور انگلستان یا امریکہ کے باشندے علمی و دینی اور معاشی و معاشرتی لحاظ سے برابر ہو سکتے ہیں؟ اور کیا ایک ہی نظام حکومت ان کو مطمئن کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔بلکہ یہ خلاف عقل اور خلاف فطرت بات ہوگی اور اسلامی قانون تو عین فطرت کے مطابق ہے۔اور انسانی فطرت کی ہر شاخ کی پرورش کرتا ہے۔اس لئے اسلام نے ہر چیز کے بارہ میں ایسی کامل تعلیم دی ہے، جو زمان و مکان کی نسبتوں سے بالا ہے۔جیسا کہ نظام حکومت کے بارہ میں اسلامی تعلیم سے ظاہر ہے۔اسلامی مذہب کے کامل اور دائی ہونے کے سلسلہ میں قرآن شریف سے دوسری قسم کی مثالیں ایسی تعلیمات کی بھی ملتی ہیں، جوائل ہیں اور حالات اور زمانہ جن کو بدل نہیں سکتے۔اور جتنا مرضی کوئی زور لگالے، وہ تعلیمات غیر مبدل ہی رہیں گی۔اس سلسلہ میں بھی میں ایسی اہم مثالیں پیش کرنا چاہتا ہوں، جن کی آج دنیا کو بہت ضرورت ہے۔) پہلی مثال اسلام کی تعلیم عدل وانصاف کے بارہ میں ہے۔لیکن اس کی حقیقت اور اس کی عظمت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہوگا کہ کسی قدر دوسرے مذاہب کی تعلیم عدل وانصاف کا ذکر کیا جائے۔تا کہ تمدنی ترقی کے تاریخی عمل میں اسلام کی انصاف کی تعلیم کا صحیح مقام متعین کیا جاسکے۔جب ہم بعض دوسرے مذاہب کا جائزہ لیتے ہیں تو اول تو عدل و انصاف پر مشتمل کوئی تفصیلی تعلیم نظر ہی نہیں آتی۔اور اگر ملتی بھی ہے تو وہ ایسی نہیں، جس کا آج کے زمانہ کے انسان پر اطلاق ہو سکے۔بلکہ اس کے بعض حصے تو آج کے انسان کی فہم ، طرزفکر اور احساسات سے شدید طور پر متصادم دکھائی دیتے ہیں۔اور انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یا تو یہ تعلیم امتداد زمانہ سے بگڑ چکی ہے یا پھر اس زمانہ کے مخصوص حالات کے پیش نظر مجبوراً ایک محدود علاقے اور محدود وقت کے لیے دی گئی ہوں گی۔ورنہ انسانی ضمیر انہیں غیر نہیں 609