تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 606 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 606

خطاب فرمودہ 05اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم اس ٹیکس کی کوئی شرح معین کر دیتا۔لیکن یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ بیسیوں مرتبہ زکواۃ دینے کے مؤکد احکامات کے باوجود ایک جگہ بھی قرآن کریم میں زکوۃ کی شرح معین نہیں کی۔لیکن اس کے باوجود ایسی اصولی رہنمائی کر دی گئی ہے، جس کے پیش نظر ہر ملک اور زمانے کے حالات کے مطابق دینی امور میں تفقہ کرنے والے معین فیصلہ کر سکیں۔چنانچہ فرمایا:۔وفي أَمْوَالِهِمْ حَتَّى لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاريات: 20) کہ جن لوگوں کے پاس بنیادی ضروریات سے زائد ہے ، ان کے مال میں ان لوگوں کا حق ہے، جو بصورت سائل یامحروم سوسائٹی میں اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں ان کی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہو رہیں۔اب اس اصول کی روشنی میں ہر زمانہ ، ملک، قوم اور معاشرہ میں انسان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا، اس کا کم از کم حق تسلیم کیا گیا ہے۔اور اس بنیادی حق کی ادائیگی کا ذمہ داران لوگوں کو ٹھہرایا ہے، جن کے پاس بنیادی ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کا انتظام حکومت کے ذمہ ہے کہ وہ ادائیگی حقوق کا عادلانہ نظام اس اصول کی روشنی میں قائم کرے۔آج کے زمانہ کا دوسرا بین الاقوامی مسئلہ نظام حکومت کی تعیین ہے کہ کہاں ، کون سا نظام رائج ہو؟ اس سلسلہ میں بھی اسلام کے رہنما اصولوں کو لیں تو وہ ایسے لچکدار لیکن ٹھوس اور پختہ اصول ہیں کہ اپنی سچائی اور عظمت کی آپ دلیل ہیں۔اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ مختلف نظام حکومت اپنے مخصوص حالات اور تقاضوں کے پیش نظر موزوں یا غیر موزوں قرار دیئے جاتے ہیں۔اور ہر زمانہ میں ہر قوم اور ہر خطہ کے بسنے والوں کے لئے ایک ہی سیاسی نظام مفید ثابت نہیں ہو سکتا۔اس لئے اسلام کوئی ایک نظام حکومت معین نہیں کرتا۔وہ نہ ڈیما کریسی یا سوشلزم کو بطور نظام حکومت کے پیش کرتا ہے اور نہ بادشاہت ڈکٹیٹر شپ یا فاشسٹ حکومت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔بلکہ وہ حکومت بنانے سے بڑھ کر حکومت چلانے کے رہنما اصول بیان کرتے ہوئے یہ پابندی عائد کرتا ہے کہ حکومت خواہ کسی ڈھب کی ہو، حکومت کی ذمہ داریاں لازماً انصاف، عدل اور انسانی ہمدردی اور بنیادی انسانی حقوق کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ادا کی جائیں گی۔اب ظاہر ہے یہ تعلیم عین انسانی فطرت اور مزاج کے مطابق ہے۔چنانچہ بہت سے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک آج بھی بطور مثال پیش کئے جاسکتے ہیں، جو اپنے جدا گانہ مزاج کے باعث برٹس 606