تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 607 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 607

خطاب فرمودہ 05 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ڈیما کریسی کو رائج نہیں کر سکتے۔یہی نہیں بلکہ خود مغربی ممالک میں ایسے ممالک کا فقدان نہیں، جہاں ڈیما کریسی کا تجربہ ناکام رہا ہے۔یا اگر ڈیمار کسی ہے تو محض نام کی ہے۔اور عملا ڈیما کریسی کے نام پر ایک منظم اور طاقتو را قلیت حکومتوں پر قابض ہے۔پس اسلام ڈیما کریسی کی تعریف کے پہلے جرہ by the people کے کھو کھلے نعرے پر اس قدر زور نہیں دیتا، جتنا اس امر پر زور دیتا ہے کہ حکومت جس طرز کی بھی ہو، لازماً اسے for the people ہونا چاہیے۔چنانچہ جہاں جمہوریت کا ذکر کرتا ہے، وہاں بھی زور اس امر پر ہے کہ فرضی جمہوریت نہ ہو بلکہ عوام میں اس بات کی صلاحیت ہو اور وہ اس صلاحیت کو پوری دیانت داری سے بروئے کارلائیں کہ حکومت کا انتخاب کرتے وقت صرف اہل لوگوں کو منتخب کریں۔چنانچہ انتخابی عمل کو اس شرط کے ساتھ مشروط کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ (النساء:59) یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ جب تم اپنے حاکموں کا انتخاب کرو تو ووٹ صرف اہلیت کو مد نظر رکھ کر دو۔اور جو بھی حکومت اس کے نتیجہ میں قائم ہو، اس کو پابند کرتا ہے کہ بلا تمیز رنگ و نسل ، مذہب و ملت، وہ حکومت کے کاموں کو انصاف کے ساتھ چلائے۔اگر اس تعلیم کو نظر انداز کر دیا جائے تو بسا اوقات آپ کو یہ صورت حال بھی دکھائی دے کہ جمہوریت کے نام پر قائم ہونے والی بہت سی حکومتیں بادشاہتوں اور آمریتوں سے بھی بڑھ کر حقوق انسانی کو پامال کرنے والی ہوتی ہیں۔پس کوئی بھی نظام ہو اور جو بھی حاکم ہو، خواہ بادشاہ ہو یاڈ کٹیٹر یا جمہوری حکومت کی صورت میں بعض افراد کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور ہو ، اگر وہ کوئی آئین دنیا میں نافذ کرتے ہیں، جو قر آنی ہدایات سے مطابقت رکھتا ہے اور اس میں احساس ذمہ داری پایا جاتا ہے اور انسان کے بنیادی حقوق ادا کرنے کی ضمانت دیتا ہے تو لازماً اس کے نتیجہ میں ایک مثالی اور نافع الناس حکومت قائم ہوگی۔اب میں خلاصہ وہ اصول بیان کرتا ہوں، جو قرآن شریف سے کسی بھی نظام حکومت کے لئے بطور بنیادی اصولوں کے مستنبط ہوتے ہیں۔۔ہر نظام حکومت کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کی عزت اور جان و مال کی حفاظت کرے۔2۔ہر حاکم کے لئے ضروری ہے کہ وہ افراد اور قوم کے درمیان عدل کرے۔(النساء:59) 607