تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 601 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 601

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 105اکتوبر 1983ء اگر چہ بائبل کے جدید نظر ثانی شدہ ایڈیشنز کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ کئی آیات جو پر ایڈیشنز میں متن تھیں، ان کو اب حاشیے میں اور جو پہلے حاشیہ میں تھیں، ان کو اب متن میں شامل کر دیا گیا ہے۔انجیل مرقس باب 16 آیت 109 تا 20 مطبوعہ 1928ء ومطبوعہ 1977ء 1888 ءلدھیانہ، انجیل متی باب 17 آیت 21 مطبوعہ 1888 ولد حیانه ) لیکن یہ تو ایک بالکل معمولی اور ادنیٰ مثال ہے۔بائبل میں یا دیگر کتب مقدسہ میں تحریف کا مضمون ایک بہت ہی وسیع مضمون ہے۔جس پر تحقیق کرنے والے صدیوں سے کام کرتے چلے آرہے ہیں۔اور ایک بات بہر حال قطعی طور پر ثابت ہے کہ بعض ایسی بنیادی تبدیلیوں اور تضادات کا پتہ چلتا ہے، جن سے صرف نظر ممکن نہیں۔اسے ہم بددیانتی کا نام نہ بھی دیں تو کم از کم اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ مرور زمانہ کے ساتھ انسان ان کتب میں تبدیلیاں کرنے پر مجبور رہا ہے۔اسلام یہ دعوی نہیں کرتا کہ تمام مذاہب اپنی موجودہ شکل میں تمام تر بچے ہیں۔بلکہ آغاز سے لے کر انجام تک مسلسل تبدیلی اور انحطاط اور تعمیر نویا انہدام کے عمل پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈالتا ہے۔پس اسلام صرف اس حد تک دیگر مذاہب کی سچائی کا مصدق ہے کہ وہ آغاز میں بچے تھے لیکن رفتہ رفتہ تحریف و تبدیل کے عمل نے ان کے چہرے بدل دیئے۔یہ تحریف و تبدیل کا عمل کتب مقدسہ کے متن میں بھی ہوتا رہا اور نظریات و عقائد میں بھی۔اور اس کا رخ ہمیشہ وحدت سے کثرت اور توحید سے شرک کی طرف رہا۔اگر ہم قرآن کے پیش کردہ اس اصول کی روشنی میں مذاہب میں اختلاف کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ جتنا کسی مذہب کے منبع کے قریب جائیں گے، اختلافات کم ہوتے چلے جائیں گے۔مثلاً عیسائیت اور اسلام کے مابین تقابلی جائزہ کو سیح کی زندگی اور انجیل اربعہ کے مطالعہ تک محدود رکھیں تو انجیل اور قرآن کے مابین اصولی تعلیم کے لحاظ سے کم اختلاف نظر آئیں گے لیکن زمانے میں جتنا آگے بڑھیں گے، ان اختلافات کی خلیج انسانی ہاتھوں کی کرشمہ سازی سے وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی جائے گی۔یہاں تک کے اس کا پاٹنا کسی انسان کے بس کا روگ نہیں رہے گا۔دیگر مذاہب کے تاریخی مطالعہ سے بھی یہی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قرآن کریم کے پیش کردہ نظریہ کی تائید میں بھی قوی قرائن ملتے ہیں کہ تبدیلی کا رخ ہمیشہ توحید سے شرک اور حقیقت سے افسانہ کی طرف رہا ہے۔قرآن شریف اس اصول کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُوْلًا أَنِ اعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ (النحل: 37) 601