تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 598
خطاب فرمودہ 105اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کوئی شخص نہ تھا، جس نے ساری دنیا کو دعوت کی ہو۔اور قرآن سے پہلے کوئی کتاب نہ تھی ، جس نے ساری دنیا کو مخاطب کیا ہو۔دنیا میں پہلی مرتبہ یہ اعلان رسول اسلام کے حق میں کیا گیا:۔وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا اور فرمایا:۔قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا اور قرآن کو (29:-) (الاعراف :159) إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَلَمِينَ ) (تکویر: 28) کہہ کر تمام عالمین کے لئے ایسی نصیحت قرار دیا، جس سے انسانیت کا شرف وابستہ ہے۔دوسرے مذاہب میں عالمگیریت کا دعویٰ ان کی الہامی کتب سے نہیں ملتا اور اگر بعد میں سینٹ پال وغیرہ نے عیسائیت کی تبلیغ کو عام کر بھی دیا تو یہ اس مذہب کا حصہ نہیں کہلا سکتی۔کیونکہ یہ سی کی ہدایت کے خلاف ہے۔پھر طرفہ یہ کہ اس نام نہاد دعویٰ عالمگیریت کا کوئی ثبوت بھی اس مذہب کے پاس نہیں ہے۔اس کے مقابل پر اسلام عالمگیر ہونے کا دعوی کر کے اس کا ثبوت بھی پیش کرتا ہے۔اور ثبوت بھی ایسا نا قابل تردید، جو ایک طرف دوسرے مذاہب کے عالمگیر ہونے کے دعویداروں کو جھوٹا ثابت کر رہا ہے تو دوسری طرف اسلام کی زبر دست امتیازی شان ظاہر کرتا ہے۔وہ یہ کہ توریت اور انجیل میں کہیں نہیں آیا کہ غیر قوموں میں بھی نبی آئے ہیں اور بنی اسرائیل کے سوا اور لوگوں کو بھی مکالمہ مخاطبہ الہیہ کا شرف حاصل ہوا۔الغرض خالق عالم کے اپنی باقی مخلوق کے ساتھ رشتہ اور تعلق کا کوئی ذکر کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتا۔پس وہ مذہب کیسے عالمگیر ہوسکتا ہے، جو کسی اور خطہ کے انسانوں سے خدا کی ہم کلامی تسلیم ہی نہیں کرتا اور مذہب کی عالمگیر حیثیت سے ہی انکاری ہے۔ایک اسلام ہی ایسا مذ ہب ہے، جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہر زمانہ میں ہر قوم سے خدا تعالیٰ کا تعلق رہا ہے، فرماتا ہے:۔وَإِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ (فاطر: 25) 598