تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 597
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 05اکتوبر 1983ء اس منفی تعلیم کو نظر انداز بھی کر دیا جائے اور اس کی خواہ کوئی بھی توجیہ پیش کی جائے، یہ حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے کہ ہندوؤں کی کتب مقدسہ میں کسی ایک بھی دوسری قوم یا علاقے کے مذہب کی سچائی کا کوئی اعلان انشار پہ بھی نظر نہیں آتا۔یہی حال دیگر کتب مقدسہ کا ہے اور نہ تو کنفیوشزم میں کسی غیر قوم یا ملک میں ظاہر ہونے والے مذہبی رہنما کی سچائی کی تصدیق ملتی ہے، نہ بدھ ازم میں ، نہ زرتشی مذہب میں۔گویا ہر ایک کو اپنے کام سے کام ہے۔اور ہر ایک کا خدا، بس اسی ایک قوم کا خدا ہے۔جس کا دیگر مخلوقات سے کوئی تعلق نہیں۔یہاں یہ بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ اگر یہ سب مذاہب سچے تھے تو خدا کے تصور کو اس حد تک محدود کر کے پیش کرنے میں کیا حکمت تھی؟ کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہ ہوگا کہ ان کی کتب مقدسہ محدود علم کی پیداوار میں اور دیگر بنی نوع انسان سے ان کی بے تعلقی لا علمی پر دلالت کرتی ہے۔پس وہ کیا خدا ہے، جو صرف ایک ہی قوم کو ہدایت کے لئے چن لے اور اپنے دیگر تمام بندوں سے بے رخی اور بے اعتنائی کا سلوک کرے؟ جب ہم اس پہلو سے قرآن کریم پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ اس الجھن کا یہ حل پیش فرماتا ہے کہ نزول قرآن سے قبل اور بعثت محمد مصطفیٰ سے پہلے اگر چہ ہر قوم کی طرف ہر خطہ زمین کی طرف خدا تعالیٰ کے رسول آئے لیکن ان سب کی حیثیت قومی اور مقامی تھی۔اور انسانی تمدن ابھی اس حد تک ارتقاء پذیر نہیں ہوا تھا کہ کوئی عالمی نبی عالمی پیغام لے کر ان کی طرف بھیجا جاتا۔پس قرآن قومی اور مقامی انبیاء کے وجود کا تو ذکر کرتا ہے۔بعثت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی ایسے نبی کا ذکر نہیں کرتا، جو عالمی پیغام لایا ہو۔اس نکتہ کو سمجھ کر جہاں ایک ذہنی الجھن سے نجات ملتی ہے، وہاں اسلام کی ایک اور امتیازی حیثیت کا علم بھی حاصل ہو جاتا۔یعنی یہ ایک ہی مذہب ہے، جو کل عالم کے انسانوں کو مخاطب کرتا ہے اور یہ دعوی کرتا ہے کہ انسان اپنے ارتقاء کی اس منزل تک پہنچ جاتا ہے، جہاں اسے قومی اور علاقائی مذہب کی حدود سے نکال کر اسلام کی صورت میں ایک عالمی مذہب عطا کیا جاتا ہے۔اسلام کی کتاب کا پہلا ورق ہی الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ یعنی تمام جہانوں کی ربوبیت کرنے والے خدا کی حمد پر مشتمل ہے اور اس کے آخری صفحہ پر رَبِّ النَّاسِ یعنی تمام انسانیت کے رب سے دعائیں کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔گویا اس کتاب کا اول و آخر تمام جہانوں کے خدا کا تصور پیش کرتا ہے، نہ کہ محض عربوں یا مسلمانوں کے خدا کا۔597