تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 590
خطاب فرمودہ 30 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ہی سے ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک عورت کا اکلوتا نوعمر بیٹا بھی محض شغل کے طور پر ان لوگوں میں شامل ہو گیا ، جو ظالمانہ قوانین اور زمینداروں کے بہیمانہ سلوک کے خلاف پر امن احتجاج کر رہے تھے۔اس موقع پر جو ہزار ہا احتجاجی قید کئے گئے ، ان میں وہ نو جوان لڑکا بھی تھا۔ان قیدیوں کو حکومت برطانیہ نے کچھ عرصہ تک نہایت اذیت ناک حالات میں مقید رکھ کر بالآخر بھیڑ بکریوں کی طرح ان جہازوں میں ٹھونس دیا ، جو انہیں باٹنی بے کی طرف لے جانے کے لئے تیار کئے گئے تھے۔ان کے اعزاء واقرباء کو صرف اتنا علم ہوسکا کہ وہ لوگ باٹنی بے چلے گئے۔وہاں ان پر کیا گزری یا کتنے ان میں سے راستے میں ہی ہلاک ہو گئے ؟ اس کی ان کو کچھ خبر نہ ہو سکی۔ان دنوں باٹنی بے کی طرف جانے والا قیدیوں کا راستہ ایک ایک طرفہ راستہ تھا۔ان کو لے جانے والی ہوائیں صرف انگلستان سے باٹنی بے کی طرف چلتی تھیں، الٹ کر کبھی واپس نہیں آئیں۔اس لڑکے کا تو کچھ پتانہیں چل سکتا کہ اس پر کیا حالات گزرے؟ ہاں ، اس ماں کا ذکر آج تک محفوظ ہے۔جو بچے کی جدائی کے غم میں دماغی توازن کھو بیٹھی۔ہر روز بلا ناغہ اس کا یہی کام تھا کہ جنوب مشرق کی طرف منہ کر کے بیٹھ جاتی کہ میرا بیٹا اس طرف گیا ہے اور اسی طرف سے واپس آئے گا۔وہ ہر روز اس کے استقبال کی تیاری کرتی اور حسب توفیق اس کی مدارت کا سامان مہیا رکھتی۔لیکن کوئی اس طرف سے نہ آیا اور انتظار کے دن لمبے ہو گئے۔وہ عورت اسی انتظار میں بوڑھی ہوگئی اور بالآخر اس کی ٹانگوں پر فالج کا حملہ ہوا اور وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگئی۔اس حالت میں بھی اس کا دستور یہی رہا کہ اپنے عزیزوں سے کہہ کر موسم کے مطابق کبھی صحن میں اور کبھی برآمدہ میں اپنی کرسی اس طرح رکھواتی کہ منہ باٹنی بے کی جانب رہے۔اور تمام دن اس سمت سے کسی آنے والے کا انتظار کیا کرتی۔لوگ اسے پاگل کہتے تھے، وہ لوگوں کو پاگل سمجھتی تھی۔اور کہتی تھی کہ جب بھی میرا بیٹا لوٹے گا، وہ یہ دیکھ کر کتنا خوش ہوگا کہ میری ماں مجھے بھولی نہیں اور آج تک میرے انتظار میں ہے۔احمدیت کی روحانی نو آبادیات کی تاریخ میں بھی اس سے ملتے جلتے واقعات نظر آتے ہیں۔مگر بنیادی فرق یہ ہے کہ وہ جبری قربانی کے واقعات نہیں بلکہ طوعی قربانی کے واقعات ہیں۔جماعت احمدیہ کی طرف سے پہلے پہل جب مولانا رحمت علی صاحب کو انڈونیشیا تبلیغ کی غرض سے بھجوایا گیا تو اس میں جبر کا کوئی پہلو نہیں تھا بلکہ محض خدمت دین کے جذبہ سے سرشار ہو کر مولانا نے خود اپنی زندگی اس وقت کے امام جماعت احمدیہ خلیفة المسیح الثانی کے حضور پیش کی تھی۔جماعت احمدیہ کی غربت کا ان دنوں یہ حال تھا کہ مبلغ بھجوانے کے لئے تو پیسے جمع کر لئے جاتے مگر واپس بلانے کا خرچ مہیا نہیں ہوتا تھا۔چنانچہ 590