تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 580 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 580

خطاب فرمودہ 30 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک اس طرح خدا تعالیٰ کی تقدیر نے یہ فیصلہ کیا کہ اسے کھنڈرات میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔اسے قدیمی بنیادوں پر از سرنو تعمیر کرنے کا وقت آ پہنچا تھا۔خدا نے اس کی تعمیر کے لئے جن معماروں اور مزدوروں کا انتخاب کیا، ان کا تعمیر کے فن سے دور کا بھی تعلق یا واسطہ نہیں تھا۔یہ معمار خدا کا برگزیدہ نبی ابراہیم تھا اور مزدور اس کا اپنا وعمر بیٹا اسماعیل تھا۔جو غالباً عمر کے لحاظ سے ابھی اتنا پختہ نہیں ہوا تھا کہ آج کل کے لیبر قانون کے مطابق اسے مزدوری کی اجازت دی جاسکتی۔یہ ایک ایسی عمارت کی تعمیر نو تھی ، جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ دنیا کی تمام عمارتوں سے زیادہ رفیع الشان ہوگی اور اسے آباد کرنے اور اسے آبا در رکھنے والے عرش کے خدا سے باتیں کریں گے۔سو گویا خانہ خدا کی یہ عمارت مجسم صلائے عام تھی کہ اے علو مرتبت کے خواہاں انسانو! اور اے روحانی رفعتوں کے متلاشیو! اگر تم بھی اس بلندی تک پہنچنا چاہتے ہو، جہاں عمارتوں اور عمارتوں میں بسنے والے آسمان سے نہیں بلکہ آسمان کے خدا سے باتیں کرتے ہیں تو تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے ادھر آؤ اور ان روحانی زمینوں کو طے کرو ، جن کے کواڑ یہ عمارت تم پر کھول رہی ہے۔جب ہم اس پہلو سے ان واقعات پر پھر نظر ڈالتے ہیں تو یہ عقدہ حل ہو جاتا ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر نو کے لئے ایک نبی اور اس کے بیٹے کو کیوں منتخب کیا گیا؟ خانہ خدا کی یہ مادی اور جسمانی تعمیر اپنی ذات میں فی الاصل ایک عظیم روحانی تعمیر کو آشکار کرنے والے ایک ظاہری نشان کی حیثیت رکھتی ہے۔مقصود بالذات کوئی مادی تعمیر نہ تھی بلکہ اصل مقصود وہ روحانی عمارت تھی، جو اس کے باطن میں تعمیر ہونا تھی۔یہ ایک ایسی عمارت تھی ، جس کے لئے دنیوی فن تعمیر کے ماہرین کی نہیں بلکہ روحانی فن تعمیر کے ماہرین کی ضرورت تھی۔پس خدا تعالیٰ کی حکمت بالغہ نے ابراہیم کی صورت میں روحانی فن تعمیر کے ایک چوٹی کے ماہر کا انتخاب فرمایا اور اس کی مدد کے لئے اس کا تربیت یافتہ بیٹا یعنی اسماعیل اسے عطا کیا۔ایک ایسی عمارت کی تعمیر کے لئے اس سے بہتر معماروں کا انتخاب ممکن نہ تھا۔یہ انتخاب تعمیر کے اصل مقصد کے عین مطابق تھا۔وہ سادہ گھر جسے ابراہیم اور اس کے بیٹے اسمعیل نے خدائی حکم کے تحت از سرنو تعمیر کیا تھا، آج بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ اپنی جگہ ایستادہ ہے اور اپنی اور اپنے اصل مقصد کی عظمت کو آشکار کر رہا ہے۔جبکہ اس کے مقابل فراعنہ مصر کے تعمیر کردہ بچے کچے اہرام سراسر ویران اور متروک حالت میں عبرت کی ایک تصویر نظر آتے ہیں۔ابراہیم اور اسمعیل کے ہاتھوں تعمیر ہونے والا خدا کا وہی سادہ سا گھر آج خدائے واحد کے لاکھوں اور کروڑوں پرستاروں کا کعبہ مقصود بنا ہوا ہے۔اور ہر سمت سے وہ اس کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔580