تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 575
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1983ء جس طرح بچے ہچکیاں لے لے کر روتے ہیں۔میں اگر چہ اس حالت میں نماز پڑھتار ہا لیکن تھوڑی سی Disturbance ہوئی کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو جب میں اٹھ کر کھڑا ہی ہوا تھا تو وہ دوڑ کر میرے ساتھ لپٹ گیا اور میرے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔میں نے کہا: کیا بات ہے؟ میں تو آپ کو جانتا نہیں۔اس نے کہا: آپ نہیں مجھے جانتے لیکن میں آپ کو جان گیا ہوں۔میں نے کہا: آپ کا کیا مطلب ہے؟ اس نے کہا کہ سارالندن آج نئے سال کے آغاز پر خدا کو بھلانے پر تلا ہوا ہے اور ایک آدمی مجھے ایسا نظر آ رہا ہے، جو خدا کو یا در رکھنے پر تلا ہوا ہے، میں کیسے آپ کو نہ پہچانوں۔غرض اس چیز نے اس پر اتنا گہرا اثر کیا کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، وہ بچوں کی طرح ہچکیاں لے لے کر رونے لگ گیا۔پس آپ کی اصل آزادی خدا کی یاد میں ہے۔دوسری ساری دنیا غلام ہے، اپنے رسم ورواج کی، شیطانیت کی، جنسیات کی اور اپنی ہوا و ہوس کی۔لیکن یہ آپ ہیں، جنہوں نے خود بھی آزادی سے پھر نا ہے اور ان لوگوں کو بھی آزادی بخشتی ہے۔اگر آپ ان کے معاشرہ سے متاثر ہو گئے اور ان کے غلام بن گئے تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ کون نام لیوا ہو گا، جو ان کو آزادی بخشے گا ؟ آپ ہی نمائندہ ہیں، اس لئے عظمت کردار پیدا کریں۔اپنے اللہ سے تعلق جوڑیں، وہ آپ کے لئے پھر معجزے دکھائے گا۔پھر آپ کو یہ پوچھنا نہیں پڑے گا کہ معجزہ کیا ہوتا ہے؟ پھر آپ لوگوں کو یہ بتائیں گے کہ معجزہ کیا ہوتا ہے؟ اس لئے یہ جو مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں سنگ بنیادرکھنے کا دن ہے، اس کو اپنے لئے فیصلہ کن دن بنا ئیں۔یہ عہد کریں کہ اب چاہے باہر سے کوئی مبلغ آئے یا نہ آئے ، آپ اسلام کے لئے مبلغ بنیں گے۔آپ نے ان لوگوں کی کایا پلٹنی ہے۔آپ نے ان کے معاشرہ میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں۔آپ نے ان سے آزادرہ کر پھرنا ہے۔اپنی عورتوں کو سنبھالیں، اپنی بچیوں کو سنبھالیں ، ان کے چہرے پر ان کی نظروں میں بعض دفعہ ایسی بے اعتنائی نظر آتی ہے کہ جس سے انسان ڈرتا ہے۔ایک ایسا اطمینان نظر آتا ہے، دنیا پر اور دین سے ایسی لا پرواہی نظر آتی ہے کہ وہ مستقبل کے معاملہ میں انسان کو خوفزدہ کر دیتی ہے۔اصل اطمینان وہی ہے، جو دین کی پیروی کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے۔جو لوگ دنیا پر مطمئن ہونے لگ جائیں، خدا اور خدا کا دین ان کے ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔وہ پھر اپنے لئے کوئی اور خدا بنا لیتے ہیں۔اس لئے اپنے بچوں کی حفاظت کریں، اپنی بیویوں کی ، اپنی بیٹیوں کی اپنی بہنوں کی حفاظت کریں۔اپنی ماؤں کو سمجھانا پڑے تو ان کو بھی سمجھا ئیں کہ تم خدا کے ہو کر رہو، اللہ سے پیار کرو اور اس بات کی حفاظت کرو کہ ہوکر خدا تمہیں کبھی کسی اور کی غلامی میں نہ جانے دے۔تم سب دعا ئیں کرو کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری 575