تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 574 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 574

خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم پڑتا ہے، اس لئے وہ بے چارا گھبرایا ہوا تھا۔خیر میں کھڑا تھا کہ اتنے میں جہاز کے عملہ کا ایک آدمی دوڑتے ہوئے آیا اور کہا: ایک سواری کم ہے، کوئی مسافر پیچھے تو نہیں رہ گیا۔میں نے کہا: میں ہوں۔اس نے میرا سامان پکڑا اور کہا: یہ ساتھ ہی جائے گا کیونکہ اب الگ لوڈ کرنے کا وقت نہیں ہے۔چنانچہ سوٹ کیس ہاتھ میں پکڑا اور ہم دوڑتے دوڑتے جہاز میں سوار ہوئے اور روانہ ہو گئے۔اب یہ جو واقعہ ہے، کوئی دنیا دار آدمی ہزار کوشش کرے، اس کو اتفاق ثابت کرنے کی لیکن جس پر گزرا ہو، وہ اسے کیسے اتفاق سمجھ سکتا ہے۔اس کو سو فیصدی یقین ہے کہ ان سارے واقعات کی یہ (Chain) زنجیر جو ہے، یہ اطاعت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام تھا۔اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ یہ ہوائی جہاز اور ان کے عملہ وغیرہ کی کوئی حیثیت نہیں۔تم اگر میرے غلام بنتے ہو تو یہ تمہارے غلام بن جائیں گے۔تمہارے لئے حالات تبدیل کئے جائیں گے۔بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات تھی لیکن جس کے ساتھ یہ بات گزرے، اس کی زندگی پر یہ بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔اتنا گہرا اثر کہ ہمیشہ کے لئے دل پر اللہ کا پیار اور اس کا احسان نقش ہو جاتا ہے۔پس میں آپ سے بھی یہ کہتا ہوں کہ آپ کیوں ان تجربوں میں سے نہیں گزرتے ؟ جب تک آپ ان تجربوں میں سے نہیں گزرتے ، آپ اللہ کو نہیں پاسکتے۔اگر آپ اللہ سے تعلق پیدا کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو خدا تعالیٰ سے پیار اور محبت کا اتنا گہرا اور اتنا کامل اور اتنا غیر متزلزل تعلق پیدا کرنا پڑے گا کہ دنیا کی کوئی صورت حال آپ کے ارادہ کو بدل نہ سکے۔آپ عزت کے ساتھ سراٹھا کر ہر جگہ گھو میں پھر میں اور محسوس کریں کہ آپ آزاد ہیں اور یہ لوگ غلام ہیں۔ایک دفعہ انگلستان میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ ہوا۔وہاں ہر سال یکم جنوری کولوگوں کی جو حالت ہوتی ہے ، وہ آپ نے سنی ہوگی۔رات بارہ بجتے ہیں اور بے حیائی کا ایک طوفان سڑکوں پر امڈ آتا ہے۔اس وقت ہر شخص کو آزادی ہوتی ہے، وہ جس کو چاہے گلے لگائے اور پیار کرے۔خواہ وہ کتنا ہی گندا ہی کیوں نہ ہو۔اس کے منہ سے شراب کی بدبو آتی ہو یا اور کئی قسم کی غلاظتیں لگی ہوں۔خیر رات کے بارہ بج رہے تھے، میں پوسٹن کے ریلوے اسٹیشن پر گاڑی کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔میں وہاں کسی کام کے لئے گیا ہوا تھا۔اس وقت فارغ ہو کر واپس گھر جارہا تھا۔تو جس طرح دوسرے احمدیوں کو یہ خیال آتا ہے کہ ہم سال کا نیا دن نفل سے شروع کریں، اسی طرح مجھے بھی یہ خیال آیا۔چنانچہ میں نے وہاں نفل پڑھنے شروع کر دیئے۔کچھ دیر کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ میرے پاس ایک آدمی کھڑا رورہا ہے اور رو بھی اس طرح رہا ہے، 574