تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 573
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1983ء فون پر پتہ کیا تو بتایا یہ گیا کہ اس دن کی ساری (Flights) پروازیں Booked ہیں۔صبح کی Flights کا تو سوال ہی نہیں۔اور جب انہوں نے پوچھا کہ Chance پر کوئی جگہ مل سکتی ہے، یعنی اتفاقا کچھ لوگ رہ جاتے ہیں تو اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ اتنا Rush ہے کہ Chance پر بھی سینکڑوں آدمی بیٹھے ہوئے ہیں۔اس جلوس کے آخر پر اگر ہم ان کا نام لکھ لیں تو پھر بھی شائد کئی دن کے بعد باری آئے۔یہ اس وقت Rush کی حالت تھی۔تو انہوں نے کہا: پھر تور بوہ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔تم چند دن ٹھہرو، تمہاری سیٹ بک کروا دیتے ہیں۔جب باری آگئی، چلے جانا۔میں نے ان سے کہا کہ آپ کی یہ سوچ ہو گی۔ٹھیک ہے اور اس پر میں اعتراض نہیں کر سکتا۔لیکن مجھے حضرت صاحب کا حکم ہے کہ تم نے کل ضرور پہنچنا ہے، اس لئے میں نے تو ضرور جانا ہے۔انہوں نے کہا: سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تم جاہی نہیں سکتے۔میں نے کہا: سوال بیشک نہ پیدا ہوتا ہو، میں نے ائیر پورٹ پر جانا ہے، کوشش کرنی ہے، پھر اللہ کی جو مرضی۔مگر یہاں میں چین سے نہیں بیٹھ سکتا کہ خدا تعالیٰ کا خلیفہ مجھے حکم دے کہ تم پہنچو اور میں آپ کے ساتھ بیٹھا آرام سے انتظار کرتا رہوں کہ جو کوشش کرنی تھی کر لی۔کوئی Chance ہے، وہ بھی خدا کے ہاتھ میں ہے، کوشش تو کرنی چاہئے۔خیر میں جب صبح روانہ ہوا تو سب نے مذاق سے ہنس کر کہا کہ ہم تمہارا ناشتہ پر انتظار کریں گے، واپس آ کر ناشتہ ہمارے ساتھ کرنا۔میں ائیر پورٹ پر گیا، انہوں نے کہا: سیٹ ملنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔میں نے کہا: بہت اچھا نہیں ہے تو میں یہاں کھڑا رہتا ہوں۔میں نے کہا: ? Chance انہوں نے کہا: Chance کا بھی کوئی سوال نہیں۔میں نے کہا: کوئی حرج نہیں، میں انتظار کرتا ہوں، دیکھتا ہوں کیا ہوتا ہے؟ چنانچہ میں ابھی انتظار کر رہا تھا کہ اتنے میں وہ جو رجسٹر ہوتا ہے، وہ انہوں نے بند کیا اور Call دی کہ جہاز چلنے والا ہے، مسافر سوار ہونے کے لئے چلے جائیں۔چنانچہ رجسٹر Pack کر کے روانہ ہو گیا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ایسا یقین ڈال دیا تھا کہ میں نے جانا ہی جانا ہے۔میں وہیں کھڑا رہا۔ایک نوجوان لڑکا میرے پاس دوڑتے ہوئے آیا اور کہنے لگا: آپ کو لاہور کے لئے ٹکٹ چاہئے؟ میں نے کہا: ہاں، مجھے چاہئے۔کہنے لگا: میرے نام کا ہے، آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں، میرے نام پر سفر کرنے میں۔میں نے کہا: نہیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔میں نے اسی وقت اس کو پیسے دیئے، باوجود اس کے کہ اعلان ہو چکا تھا کہ جہاز پرواز کرنے والا ہے، رجسٹر وغیرہ Pack کر کے جہاز کے عملہ کے لوگ روانہ ہو چکے تھے۔میں نے اس کو پیسے دیئے اور ٹکٹ لے لیا۔کیونکہ پاکستان میں اگر کوئی آدمی (Internal Flight) اندرون ملک پروازوں میں جہاز Miss کرے تو اسے کافی جرمانہ ادا کرنا 573