تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 572
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو فرمایا ہے، وہی اطاعت ہے۔خدا تعالیٰ کے نظام کو چلانے کے لئے جو بھی خدا کی طرف سے مقرر ہوتا ہے، اس کی اطاعت بھی خدا کی اطاعت بن جاتی ہے۔اس کے مقرر کردہ عہد یداران کی اطاعت بھی خدا کی اطاعت بن جاتی ہے۔اور یہ مضمون آگے تک چلتا ہے، یہاں تک کہ بعض لوگ تکبر سے یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ یہ تو چھوٹا آدمی ہے، ہم اس کی بات نہیں مانیں گے۔ہاں خلیفہ وقت کی مان لیں گے، اس کی بیعت کی ہے۔حالانکہ وہ اس روح کو سمجھتے نہیں ہیں کہ خلیفہ وقت کی پھر کیوں مانو گے؟ وہ بھی تو ایک انسان اور حقیر انسان ہے۔پھر تم براہ راست خدا سے کہو کہ وہ تم سے کلام کیا کرے اور تمہیں براہ راست ہدایت دیا کرے۔اگر تمہارے اندر اتنا تکبر ہے، تمہاری اتنی شان ہے تو پھر خلیفہ وقت کے نمائندہ کی بات بھی نہ مانو بلکہ اس کی بھی نہ مانو ، پھر نبی کی کیوں مانو گے؟ وہ بھی تو ایک انسان ہے، پھر تو براہ راست اللہ سے مطالبہ ہونا چاہئے کہ اے خدا! تو خود بتا کہ کیا کرنا ہے؟ تب ہم مانیں گے ورنہ کسی انسان کی نہیں مانیں گے۔اور اگر یہ حرکتیں کریں گے تو اسی کا نام قرآن کریم شیطانیت اور ابلیسیت رکھتا ہے۔اس لئے جس اطاعت کے بدلہ پھل ملتا ہے، وہ اطاعت کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔اس کے اندر بڑی گہری روح ہے۔اس میں تو انسان سب سے پہلے اپنے نفس سے آزاد ہوتا ہے۔تب جا کر اطاعت کرتا ہے۔یہ ہوہی نہیں سکتا کہ نفس کا غلام ہو اور اللہ کا مطیع ہو۔یہ دونوں چیزیں آپس میں ٹکرا جاتی ہیں۔چنانچہ میں آپ کو جو مثال دے رہا تھا کہ اطاعت آپ کو آزاد کر دیتی ہے، دوسری چیزوں سے اور دوسری غلامیاں آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کرنے دیتیں۔یہ اس کی مثال ہے۔سب سے پہلے نفس کو پاک کرنا پڑے گا ، اپنے ضمیر کو آزاد کرنا پڑے گا کہ میں صرف اور صرف خدا کے سامنے جھکتا ہوں اور خدا کی نمائندگی میں اگر مجھ سے بہت ہی ادنی آدمی بھی مجھ پر حاکم مقرر ہو تو میں اس کے سامنے بھی جھکوں گا۔یہ ہے اسلامی اطاعت کی روح۔اس کی اگر تربیت مل جائے تو اس اطاعت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بعض دفعہ انسان کو بہت سے معجزات دکھاتا ہے اور یہ بتانے کے لئے اور یقین پیدا کرنے کے لئے کہ میری خاطر تم نے کیا ہے، میں تمہاری خاطر دنیا کو تمہارا غلام بناؤں گا۔میں اس کی ایک چھوٹی سی مثال پیش کرتا ہوں۔ایک دفعہ حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک وفد مشرقی پاکستان بھجوایا ، جس میں میں بھی شامل تھا۔وہاں سے واپسی پر مجھے کراچی میں ربوہ سے حضور کا فون پر یہ پیغام موصول ہوا کہ پہلی فلائٹ پر یہاں پہنچ جاؤ۔رپورٹ کا انتظار تھا۔ہمارے بھائی صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب بھی تھے اور ہمارے ایک اور بھائی کرنل مرزا داؤ د احمد صاحب، جن کے ہاں ہم ٹھہرے ہوئے تھے ، انہوں نے 572