تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 570
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک حقیقت ہونی چاہئے۔اس وقت آپ کو دنیا میں جو آزاد قو میں نظر آ رہی ہیں، وہ صرف خدا اور خدا کے تصور سے آزاد ہوئی ہیں۔یہی ایک ”آزادی“ ہے، جس نے ان کو دوسری چیزوں کا غلام بنا دیا ہے۔اور اس غلامی میں وہ دن بدن زیادہ جکڑی جارہی ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ جن لوگوں نے ان کو آزاد کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے، وہ پہلے خود اپنی آزادی کی فکر کریں۔اگر خدانخواستہ وہ خود ہی اپنے ہاتھوں میں رسم ورواج کی زنجیر پہن لیں گے اور ان کے پاؤں میں دنیاوی آلائشوں کی بیٹیاں چلی جائیں گی تو ان قوموں کو کس طرح زندہ کریں گے؟ اس لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت میں داخل ہوں اور اس سے پیار کریں اور اس سے سچا تعلق جوڑیں۔اس کے نتیجہ میں پھر وہ چیز نصیب ہوتی ہے، جس کو بعض لوگ معجزہ کہتے ہیں۔یعنی خدا کا تعلق انسان کی عملی زندگی میں الہی نصرت بن کر داخل ہو جاتا ہے اور وہ نصرت انسان کو خود بھی نظر آنے لگتی ہے۔آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ ایک زندہ اور صاحب اقتدار ہستی میرے ساتھ ہے اور غیروں کو بھی وہ نصرت نظر آنے لگتی ہے۔یہ وہ دوسرا حصہ ہے، اس مضمون کا ، جسے روحانیت کہتے ہیں۔روحانیت کے بغیر آپ مادیت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔جب تک آپ اس یقین کے ساتھ زندہ نہیں رہتے کہ خدا میرے ساتھ ہے، وہ مجھ سے پیار کرتا ہے، خدا ایک صاحب اقتدار ہستی ہے، جو میرے لئے دنیا میں تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہے اور کرتی ہے، دنیا جو چاہے کرے لیکن خدا میری حفاظت فرمائے گا، اس وقت تک دنیا میں روحانی انقلاب بپا نہیں کیا جاسکتا۔یہ وہ حقیقت ہے، جو انسان کے مقاصد کو واضح اور اس کی کامیابی کے سامان پیدا کیا کرتی ہے۔اس کا پہلا قدم انسان کے اپنے نفس کی آزادی ہے۔یعنی خدا کی غلامی میں آ جانا، پہلا قدم ہے۔تقومی کی حفاظت کرنا یعنی اللہ کی یاد کو اپنا اوڑھنا بچھونا اور کھانا پینا سب کچھ بنا لیا جائے اور ہر چیز پر خدا تعالیٰ کو فضیلت دی جائے، یہ وہ چیزیں ہیں، جو بندہ خدا کے حضور پیش کرتا ہے۔لیکن خدا ان چیزوں کو سمیٹ کر نہیں بیٹھ جاتا۔خدا اپنے ان بندوں پر اپنی قدرتیں ظاہر کرتا ہے، ان سے محبت اور پیار کا سلوک فرماتا ہے، ان کو تقویت دیتا ہے، ان کو حو صلے بخشتا ہے، ان کی نگاہوں کو حقیقی آزادی عطا کرتا ہے۔پھران کے لئے کوئی جھجک نہیں رہتی۔وہ کوشش کر کے آزاد نہیں ہوتے بلکہ آزادی ان کی فطرت بن جاتی ہے۔دنیا جن چیزوں کو بہت پسند کرتی ہے اور ان میں لذتیں ڈھونڈتی ہے، ان کو ان چیزوں میں حقارت کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ، گندگی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ایسے انسانوں کے، جو باخدا ہو جائیں ، نظریئے بدل جاتے ہیں، معیار بدل جاتے ہیں، ان کی آنکھیں ، ان کے وقت، ہر چیز میں فرق پڑ جاتا ہے۔570