تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 552 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 552

خطاب فرمودہ 21 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جائے۔اللہ تعالیٰ آپ کی دنیا بھی سنوار دے اور آپ کی آخرت بھی سنوار دے۔اللہ تعالیٰ آپ کے دل میں تبلیغ کے جذبے پیدا کرے، ان جذبوں کو نشو و نما دے کر ان کی حفاظت فرمائے۔اللہ تعالیٰ آپ سے محبت اور پیار کا سلوک کرے، آپ کی دعاؤں کو قبول کرے، آپ کو کچی خوا ہیں دکھائے۔آپ کو خدا اپنے وجود کا یقین اس طرح دلا دے کہ گویا آپ اپنے رب کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔جب خدا سے تعلق گہرا ہو جائے گا تو پھر آپ کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ آپ تقریر کریں۔جب آپ خدا والے بن جائیں گے تو پھر یہ تدبیریں کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ کس طرح آپ کی اولادوں کو سنبھالا جائے اور ان کے بچوں کی تربیت کی جائے؟ کیونکہ خدا والوں کا وہ خود کفیل ہو جایا کرتا ہے۔وہی ان کو علم دیتا ہے، وہی ان کی تربیت کرتا ہے، وہی ان کو سکھاتا ہے اور وہی ان کو پڑھاتا ہے۔رہا مرکز سے دوری کی وجہ سے پیدا ہونے والا مسئلہ تو اس کا سب سے بڑا اور سب سے اہم حل یہ ہے کہ آپ اپنے رب کریم سے تعلق پیدا کر کے اس کے قریب ہو جائیں۔ہمارا خدا تو کسی سے دور نہیں ہے۔اس کے لیے تو کوئی فاصلے نہیں ہیں، وہ تو ہر جگہ موجود ہے اور ہر دل کے پاس منتظر ہے کہ اس دل کے دروازے کھلیں اور وہ اس میں داخل ہو جائے۔پس مرکز سے دوری کا غم اس قوم کو کیوں ہو گیا ، جس کا خدا اس کی رگ جان سے بھی قریب ہے؟ سو اس مشکل کا اصل حل اور اس مسئلہ کو حل کرنے کا طریق ایک ہی ہے کہ آپ اپنے اللہ سے پیار کریں، اپنے اللہ سے قریب ہوں، اس کے دروازے کھٹکھٹائیں اور اس کے حضور یہ التجا کریں کہ اے خدا! ہمارے لئے سب دوریاں ہٹا دے۔اور جن لوگوں کے ہم قریب ہونا چاہتے ہیں، ہمیں روحانی لحاظ سے ان کے قریب تر کر دے۔یہ حقیقت ہے کہ جب خدا قریب کرنا چاہے تو نہ جغرافیائی فاصلے دور رکھ سکتے ہیں، نہ وقت کے فاصلے دور رکھ سکتے ہیں۔اور ایسے حیرت انگیز واقعات رونما ہوتے ہیں کہ بعد میں آنے والے پہلوؤں سے مل جاتے ہیں اور دور بیٹھے ہوئے دور رہنے والوں سے مل جاتے ہیں۔چنانچہ حضرت اویس قرنی کے متعلق سب جانتے ہیں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دور تھے اور ان کو آپ کا دیدار بھی نصیب نہیں ہوا۔لیکن چونکہ وہمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاشق صادق تھے اور چونکہ خدا سے ان کا پختہ تعلق تھا، اس لئے اللہ نے ان کو ایسا قریب کر دیا کہ وہ صحابہ میں لکھے گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر سلام بھیجا۔پس فاصلوں کی دوری نیک لوگوں کی راہ میں حائل نہیں ہوا کرتی۔اس سے بھی زیادہ عظیم الشان واقعہ یہ رونما ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ حیرت انگیز خبر دی کہ میں آخرین میں دوبارہ تمہیں اس طرح بھیجوں گا کہ کوئی تمہارا 552