تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 529 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 529

تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطبہ جمعہ فرمودہ 09 ستمبر 1983ء جے تو میر اہور ہیں سب جگ تیرا ہو خطبہ جمعہ فرمودہ 09 ستمبر 1983ء تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔یہ سفر جو میں نے اختیار کیا ہے، یہ کئی لحاظ سے بڑی اہمیت بھی رکھتا ہے اور جماعت کی تاریخ میں کئی لحاظ سے ایک نمایاں مقام بھی رکھتا ہے۔اس کی ایک نمایاں خصوصیت تو یہ ہے کہ ایک نئے براعظم میں جماعت کی طرف سے باقاعدہ مسجد اور مشن ہاؤس کا سنگ بنیا در کھا جانے والا ہے۔اگر چہ اس براعظم میں پہلے سے رضا کارانہ طور پر تبلیغ اسلام کا کام 1913ء سے شروع ہے لیکن باقاعدہ مشنری کے ذریعہ اور با قاعدہ مشن کی بنیا درکھ کر پہلے کام نہیں ہوا۔دوسرے یہ کہ اس دورے کو ایک تاریخی اہمیت حاصل ہے۔اور وہ یہ ہے کہ جماعتی لحاظ سے اس سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کسی خلیفہ کو مشرق کے دورے کی توفیق نہیں ملی تھی۔جہاں تک مجھے یاد ہے، بحیثیت خلیفہ کسی نے مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) کا دورہ بھی نہیں کیا۔مجھ سے پہلے جو خلیفہ تھے، یعنی حضرت خلیفة المسیح الثالث " وہ خلافت سے قبل مشرقی پاکستان تشریف لے جاتے رہے اور میں بھی اس حیثیت سے مشرقی پاکستان میں گیا کہ جماعت کے وفد کے ایک ممبر کے طور پر بار بار ہاں جانے کا موقع ملا لیکن بحیثیت خلیفة المسیح میں سمجھتا ہوں کہ اس سے پہلے نہ کوئی مشرقی پاکستان اور نہ سیلون بلکہ اس رخ پر بھی کوئی دورہ کسی خلیفہ کا نہیں ہوا۔اس لئے مجھے خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر مشرق کے لئے اسلام کی نئی ترقیات کا دروازہ کھولنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔اور اس پہلو سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ایک اور رنگ میں بھی پوری ہو رہی ہے کہ سورج مغرب سے طلوع کرے گا۔کیونکہ مشرق بعید کی جتنی قومیں ہیں ان پر مغرب کا سورج بذریعہ احمد بیت طلوع کرنے والا ہے۔لیکن اس دورے میں ایک کمی محسوس ہو رہی ہے اور وہ ہمارا انڈونیشیا نہ جاسکتا ہے۔کیونکہ اس سے پہلے جب بھی خلفاء کی مشرق یا مشرق بعید آنے کی باتیں ہوئیں ، ہمیشہ سب سے نمایاں اور سب سے اہم ملک، جو سامنے آتا رہا، وہ انڈونیشیا ہی تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بعض احمد یوں کو ایسی رویا 529