تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 524
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم کے قریب رقم وصول ہوئی ہے۔یعنی ساری جماعت کی غریبانہ کوششوں کا یہ حال ہے۔اور دوسری طرف یہاں اس ملک میں بھی ایسی مساجد عطیہ کے طور پر بنائی گئی ہیں، جن کے اوپر ایک ارب روپے سے زیادہ لاگت اٹھ رہی ہے۔اور بعض کئی کئی ارب روپے کی ڈیزائن ہو رہی ہیں۔پس جہاں تک ظاہری شان و شوکت کا تعلق ہے ، ہم تو اس میدان کے کھلاڑی ہی نہیں ہیں۔نہ اس سے ہمیں کوئی فرق پڑتا ہے۔لوگ کہتے ہیں: دیکھو فلاں نے کتنی شاندار مسجد بنوائی ہے۔ہم کہتے ہیں: ٹھیک ہے، بہت شاندار بنوائی ہوگی۔لیکن ہمیں تو وہ شان چاہئے ، جس پر اللہ کے پیار کی نظر پڑے، جسے خدا کے انبیاء کا دستورالعمل شاندار قرار دے۔اور وہ شاندار عمارت تو جیسا کہ میں نے بتایا، بڑی غریبانہ حالت میں تعمیر ہوئی تھی۔وو پس اول اور آخری دو مسجدیں ہمیں معلوم ہیں کہ جو ساری مساجد میں سب سے زیادہ شاندار ہیں اور میری دعا ہے کہ ہم ہمیشہ جب بھی مسجدیں بنائیں، انہی مساجد کے نمونہ پر بنائیں ، اسی طرح دعاؤں کے ساتھ اور گریہ وزاری کے ساتھ بنائیں اور بھول جائیں، اس بات کو کہ ان کی ظاہری شان و شوکت دنیا کو پسند بھی آتی ہے یا نہیں؟ ہاں، یہ دعا کریں کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا کی کہ اے خدا! ان میں پھر عبادت کرنے والے پیدا کرنا ، جو عبادت کا حق ادا کرنے والے ہوں“۔وو پس جماعت احمدیہ کو ان دو مساجد سے جن کا میں نے ذکر کیا ہے، یعنی اول بیت اور اخر المساجد سے سبق لینا چاہئے۔اور یا درکھنا چاہئے کہ یہ مساجد محض عبادت کی خاطر تعمیر کی گئی تھیں۔اگر ہم ساری دنیا میں مساجد آباد کرنے کا پروگرام بنائیں، اگر خدا ہمیں توفیق دے کہ براعظم آسٹریلیا کا کیا سوال، ہر ہر شہر اور ہر ہر بستی میں مساجد بنائیں لیکن اگر مساجد بنانے والوں کے دل تقویٰ سے خالی ہوں اور وہ خود خدا کے گھروں کو آباد کرنے کی اہلیت نہ رکھتے ہوں، اگر ان کے اندر وہ ابراہیمی صفت نہ ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات کا رنگ نہ ہو، وہ خالص نیتیں نہ ہوں، جو اللہ کے لئے خالص ہو جایا کرتی ہیں، وہ زیشنیں نہ ہوں، جو زمینیں لے کر متقی خدا کے گھروں تک پہنچا کرتے ہیں تو پھر ان گھروں کی تعمیر کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتی ، یہ سارے سفر بے کار ہیں اور یہ سارے پیسے ضائع کئے جا رہے ہیں، ان میں کوئی حقیقت نہیں۔اس لئے جماعت احمد یہ ہر دفعہ جب کوئی مسجد بناتی ہے تو ایک نئے عزم کے ساتھ ہمیں عبادت پر قائم ہو جانا چاہتے۔میں اس یقین کے ساتھ ملک سے باہر جاؤں کہ جماعت احمدیہ میں جو پہلے عبادت میں کمزور تھے، اب وہ عبادت میں اور زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں۔اور جو پہلے عبادت کرتے تھے ، وہ پہلے سے بھی بڑھ 524