تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 523 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 523

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد شم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 ستمبر 1983ء ہرنی مسجد کی تعمیر پر ایک نئے عزم کے ساتھ ہمیں عبادت پر قائم ہو جانا چاہیے "" خطبہ جمعہ فرمودہ 02 ستمبر 1983ء ابھی چند دن تک انشاء اللہ تعالیٰ ہم مشرق کے دورہ پر پاکستان سے روانہ ہوں گے۔اور اس دورہ میں براعظم آسٹریلیا میں سب سے پہلی احمد یہ مسجد کی بنیادرکھنے کا سب سے اہم فریضہ ادا کرنا ہے۔یہ مسجد کی بنیاد بھی ہوگی اور مشن ہاؤس کی بنیاد بھی ہوگی۔یعنی اس مسجد کے ساتھ ایک بہت ہی عمدہ مشن ہاؤس کی عمارت بھی تعمیر ہوگی۔جہاں مبلغ اپنے ہر قسم کے فرائض پورے کر سکے گا۔اس لحاظ سے یہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک بہت ہی اہم مسجد ہے کہ ایک نئے براعظم میں ہمیں اس کی بنیا د رکھنے کی توفیق مل رہی ہے۔اس سے قبل براعظم آسٹریلیا خالی پڑا تھا۔اور جماعت یہ تو کہہ سکتی تھی کہ دنیا کے ہر براعظم میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کا پیغام پہنچایا ہے۔لیکن براعظم آسٹریلیا میں اگر پیغام پہنچا تو اتفاقاً انفرادی کوشش سے پہنچا۔جماعت کی طرف سے کوئی باقاعدہ مشن نہیں بنایا گیا اور کوئی مسجد نہیں بنائی گئی تھی۔مسجد کے لئے جو زمین لی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت با موقع اور کافی بڑا رقبہ ہے۔آسٹریلیا کا ایک مشہور شہر سڈنی ہے۔سڈنی سے تقریباً پچاس میل کے فاصلے کے اندر یہ جگہ واقع ہے۔اور بڑے بڑے شہروں میں پچاس میل کا فاصلہ کوئی چیز نہیں ہوا کرتا۔127ایکڑ سے کچھ زائد رقبہ ہے، جس میں انشاء اللہ مسجد بھی بنائی جائے گی اور مشن ہاؤس بھی۔اور آئندہ جماعت کی دلچسپیوں کے لئے ہر قسم کے مواقع وہاں مہیا ہو سکیں گے۔127 ایکڑ میں تو ماشاء اللہ ہمارا جلسہ سالانہ ہوسکتا ہے۔اس لئے ہم بڑی امید لے کر اتنا بڑا رقبہ لے رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ جلد اس کو بھر بھی دے اور چھوٹا بھی کر دے اور یوں ہماری تو قعات نا کام ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اس سے بہت آگے نکل جائیں۔ان دعاؤں کے ساتھ انشاء اللہ اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔و ظاہری تعمیر کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، ایسی ایسی حکومتیں ہیں، جو خدا کے گھر بنارہی ہیں کہ ہمارے صد سالہ منصوبے پر جتنی رقم خرچ ہوتی ہے، اس سے کئی گنا زیادہ رقم وہ ایک مسجد کی تعمیر پر لگادیتی ہیں۔یعنی ہمارا صد سالہ منصوبہ دس کروڑ کا تھا اور اس میں سے ابھی تک نصف 523